خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 348
خطبات طاہر جلد ۹ 348 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء بڑھا رہی ہے، حکومتوں سے بھی، اُن کے بڑے بڑے دانشوروں سے بھی اور اس کے علاوہ مذہبی راہنماؤں سے اور ہر رابطے کے نتیجے میں یہ بات زیادہ واضح ہوتی چلی جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت جماعت احمدیہ کی طلب پیدا ہو چکی ہے اور جب میں کہتا ہوں جماعت احمدیہ کی طلب تو ظاہر بات ہے کہ اسلام کی طلب مراد ہے مگر وہ اسلام جسے ہم اسلام سمجھتے ہیں جسے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام سمجھا تھا اور جسے آپ نے اپنے حسین اور بے داغ کردار کے طور پر دُنیا کے سامنے پیش کیا تھا۔اُس اسلام کی اتنی طلب ہے کہ بعض خطوط سے جب اطلاعیں ملتی ہیں کہ فلاں شخص جو پہلے اتنا دشمن تھا اسلام کا جب ہم نے اُس سے رابطہ کیا اور اسلام سمجھایا تو پھر اُس کا یہ رد عمل ہوا تو انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ کس طرح تیزی کے ساتھ انسان کی کایا پلٹتی ہے اور یہ کایا پلٹنے کی طاقت سچے اسلام میں ہے۔حال ہی میں ہندوستان سے ایک رپورٹ ملی کہ وہاں کی وہ پارٹی جو مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش ہے اور دن بدن زیادہ طاقت حاصل کرتی چلی جارہی ہے اُن کے ایک سیکرٹری کو موقع ملا کہ ہماری تبلیغی نمائش کو آ کر دیکھے۔وہ آیا تو کسی اور نیت سے ہوگا کیونکہ بعد میں جو اُس نے باتیں کیں اور بعض دوسرے ہندو جو مختلف تنظیموں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں انہوں نے باتیں کیں۔اُن سے پتا چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ میں اُن کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور بڑے غور سے اور گہری نظر سے مطالعہ کر رہے ہیں کہ یہ کس قسم کی جماعت ہے اور کس طرح ان سے ہم نے نبرد آزما ہونا ہے؟ تو اس خیال سے میں سمجھتا ہوں کہ وہ آئے تو ہوں گے تنقیدی نظر سے دیکھنے کے لئے اور بہر حال دوست کی نظر سے تو وہ جس مقام کے آدمی ہیں وہ نہیں آ سکتے تھے لیکن جوں جوں وہ نمائش دیکھتے رہے اور تبادلہ خیال کرتے چلے گئے اور یہ معلوم کرتے رہے کہ اسلام دیگر بنی نوع انسان سے اور دیگر مذاہب سے کیسے تعلقات کا خواہاں ہے، کیا تعلیم دیتا ہے؟ تو ان کی حالت بدلنی شروع ہوئی۔آخر پر جانے سے پہلے وہ کتاب میں اپنے ہاتھ سے ریمارکس لکھ کر دے گئے ہیں اور انہوں نے یہ لکھا ہے کہ میں اُس اسلام سے نفرت کرتا ہوں جو اسلام دوسرے مسلمان ہمارے سامنے اب تک پیش کرتے رہے ہیں اور اُس اسلام سے محبت میں مبتلا ہو گیا ہوں جو اسلام جماعت احمدیہ نے پیش کیا ہے اور جو اسلام بانی اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش کیا تھا۔حیرت انگیز ہے یہ بات کہ ایک گھنٹہ