خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 349

خطبات طاہر جلد ۹ 349 ۲۲ جون ۱۹۹۰ء ڈیڑھ گھنٹے کی مجلس نے اور جماعت احمدیہ کی عالمگیر تبلیغی کوششوں پر نظر ڈالنے سے اُن کے اندر یہ حیرت انگیز پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔بہار جو کہ فسادات کی جڑ بنا رہا ہے۔بہار سے اب بھی جو ڈاک موصول ہوئی تو اس میں بھی یہ باتیں تھیں کہ وہاں کے ہندو اب بار بار جماعت سے رابطہ کر کے معلوم کر رہے ہیں کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے اور اپنے گزشتہ رویے پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔چنانچہ جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی ایک Good Will کے طور پر، خیر سگالی کے طور پر جہاں مسلمان فساد زدگان کی مدد کی گئی وہاں ہند وفسادز دگان کی بھی مدد کی گئی اور میں نے یہ خاص تاکید کی تھی کہ صرف مسلمانوں کی مدد کریں گے تو فرقہ واریت کو مزید ہوا ملے گی اس لئے انسانیت کی مدد کرنی ہے اور انسانیت کی مدد کریں گے تو انسانی جذبات اور انسانی قدروں کو تقویت ملے گی۔چنانچہ ایک ہندو علاقے میں جو فساد سے متاثر تھا اگر چه زیادہ مسلمان متاثر ہوئے ہیں لیکن بہر حال ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ہندو متاثر ہوئے ہیں۔وہاں جب جماعت احمدیہ نے جا کر غریبوں کی خدمت کی اور گرے ہوئے گھروں میں تعمیر کی پیشکش کی تو اُس سے ایک سنسنی سی پیدا ہوگئی اور اس تیزی سے یہ خبر اس علاقے میں پھیلی ہے کہ دور دور سے ہندوراہنما تجب سے دیکھنے آئے کہ یہ ہیں کون لوگ؟ کس قسم کے مسلمان ہیں اور کس قسم کی تعلیم دنیا میں پیش کر رہے ہیں؟ تو اس لئے رابطے تو بہت پھیل رہے ہیں اور بڑھ رہے ہیں اور نئی نئی کھڑکیاں کھلتی چلی جارہی ہیں جو پھر دروازوں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور پھر شاہراہوں میں بدل رہی ہیں اور تمام تعلقات کو خدا تعالیٰ کے فضل سے وسعت عطا ہورہی ہے۔اب چلنے والے بھی تو چاہیں کھڑکیاں کھلیں، کچھ لوگ چھلانگیں لگاتے ہیں کھڑکیاں جب کھلتی ہیں، کچھ دروازوں کا انتظار کرتے ہیں، کچھ سڑکوں کا انتظار کرتے ہیں۔اب تو خدا تعالیٰ نے سارے انتظام کر دیئے ہیں، سارے کام مکمل ہو گئے۔اب چلنے والوں کی ضرورت ہے اور جہاں تک میں اپنی روز مرہ کی ڈاک سے اور ر پورٹوں سے اندازہ لگاتا ہوں میرا خیال ہے کہ ابھی بھاری اکثریت جماعت کی ایسی ہے جو ان بدلے ہوئے حالات میں اپنے بدلے ہوئے کردار کے ذریعے استفادہ نہیں کر رہی اور بہت سے گم سم بیٹھے ہیں یعنی بات سنتے ہیں خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی دل نرم ہے اور بہت جلدی نصیحت کو قبول کرتا ہے لیکن اُن کی راہنمائی نہیں۔کیا کریں کس طرح کریں؟ وہ بات سُن کر گم سم بیٹھ جاتے ہیں اور پھر بعض دفعہ