خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد ۹ 287 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۹۰ء حصہ وہی ہے جو اس کی نیکیوں کا نچوڑ ہے جس کو وہ اچھال کر سطح پر لے آتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری بدیوں پر بھی ہماری نگاہ ہے اور گہرائی تک نگاہ ہے۔تم کیا سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ تمہاری بدیوں اور بداعمالیوں سے غافل ہے۔تم نے جو چند نیکیاں اچھال کر ان کے اجر کے مطالبے شروع کئے ہوئے ہیں یا ان کے اجر کی توقعات رکھتے ہوا گر وہ بدیاں بھی اسی طرح اجر کی سزاوار ٹھہریں جن کو تم چھپائے ہوئے ہو تو نیکیوں کا اجر دینے کا تو سوال کیا تم دنیا میں صفحہ ہستی سے مٹا دیئے جاؤ۔حضرت عمرؓ نے جو وصال کے وقت بار بار بے چینی سے یہ دعا کی کہ لَا لِی وَلَا عَلَى “ 66 ( بخاری کتاب الاحکام حدیث نمبر: ۶۶۷۸) تو در حقیقت وہ ایک عارف باللہ کی دعا تھی جو جانتا تھا کہ جو نیکیاں دنیا کو دکھائی دے رہی ہیں اس کے علاوہ کچھ اور بھی اعمال ہیں جو یا مجھے دکھائی دیتے ہیں یا میرے خدا کو دکھائی دیتے ہیں۔پس رد عمل تبدیل ہوتے ہیں عرفان کے ساتھ ورنہ انسانی فطرت تو تبدیل نہیں ہوتی ہر شخص اپنی بداعمالیوں کو چھپاتا ہے، خواہ وہ نیک ہو خواہ بد ہو نیک انسان اپنی بداعمالیوں پر نگاہ رکھتا ہے۔بدانسان اپنی بداعمالیوں سے غافل رہتا ہے۔نیک انسان اپنی بداعمالیوں سے گھبرا کر بعض دفعہ یہ التجائیں کرنے لگ جاتا ہے کہ اے خدا ! میری نیکیوں کا بے شک اجر نہ دے مگر میری بداعمالیوں پہ نہ پکڑ نا اور یہ کہتے ہوئے وہ جانتا ہے کہ اس دعا میں کوئی نقصان کا سودا نہیں ہے۔حضرت عمر کی فطرت میں جو ایک نمایاں بات تھی وہ سادگی اور سچائی تھی، بے لاگ اور صاف بات کر نیوالی طبیعت تھی۔ان کی دعا میں بھی یہی رنگ ہے۔ہم حضرت عمر کو ان ساری خوبیوں سے جانتے ہیں جو خوبیاں آپ کی روز مرہ کی دینی خدمات کے رنگ میں ظاہر ہوئیں۔حضرت عمرؓ نے اپنی ذات کو اپنے اندر ڈوب کر دیکھا ہے اور انکساری کی نظر سے دیکھا ہے۔وہ معمولی معمولی کوتا ہیاں بھی جو عام انسانوں کی زندگی میں کوتاہیاں کہلاتی ہی نہیں وہ نیک انسان کو اپنی بدیوں کے طور پر دکھائی دینے لگ جاتی ہیں۔پس رجمان کا فرق ہے۔آپ کا رجحان معلوم ہوتا ہے ہمیشہ اس طرف رہا کہ مجھ سے کیا کمزوری لاحق ہوئی ہے، کونسی غفلت ہوگئی ہے۔کن باتوں میں میں حق ادا نہیں کر سکا۔ان باتوں پر دھیان کرتے کرتے آپ کی عمر کئی اور جونم اپنے سینے میں چھپائے رکھا تھا وہ بے اختیار پھوٹ کر آخری سانسوں کے وقت زبان سے نکلا ہے اور آپ نے بار بار بے چین ہو کر یہ دعا کی۔لَا لِي وَلَا عَلَيَّ۔لَا لِي وَلَا عَلَيَّ۔