خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد ۹ 286 خطبه جمعه ۲۵ مئی ۱۹۹۰ء تعلق نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے حو صلے اور وسیع القلمی سے تعلق ہے۔حو صلے اور وسیع القلمی کا لفظ اگر چہ حقیقہ تو خدا تعالیٰ پر چسپاں نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کی ذات ماوراء الوری ہے لیکن انسانی محاورے کی کمزوری ہے جس کی وجہ سے ہم ایسے محاورے بار بار خدا کے لئے استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جنہیں ہم خود سمجھتے ہیں اور تمثیلاً اللہ تعالیٰ کے اوپر ان کا اطلاق کرتے ہیں۔پس اس پہلو سے میں وسیع القلمی اور بلند حو صلے کی بات کر رہا ہوں۔اس آیت پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں متوجہ فرما رہا ہے کہ دیکھو ہمارا حوصلہ دیکھو، ہماری وسیع القلمی دیکھو کہ تم بد اعمال کرتے چلے جاتے ہو۔ایسے بد اعمال جن کے نتیجے میں لازماً تمہیں ہلاک ہو جانا چاہئے اور ہم تمہاری ہلاکت کا وقت ٹالتے چلے جاتے ہیں اور تمہیں موقعہ دیتے چلے جاتے ہیں اور جب تم کوئی اچھے کام کرتے ہو یا دنیا میں محنت کرتے ہو تو اپنی بھلائی کی توقع میں اور اپنے حقوق کے طلب کرنے میں ایسی جلدی کرتے ہو کہ گویا اگر بس چلے تو تاخیر سے تمہارا اجر دینے والے کا سر توڑ دو۔یہ جتنی بھی دنیا میں لیبر یونینز بنی ہوتی ہیں یا اس قسم کی یونینز قائم ہیں یا ایسوسی ایشنز قائم ہیں جن میں حقوق طلب کرنے میں شدت پائی جاتی ہے یہ دراصل اسی رحجان کا ایک نتیجہ ہیں۔ہر معاملے میں انسان اپنے حق پر نظر رکھتا ہے اور اس میں اتنی جلدی کرتا ہے کہ وہ بھول جاتا ہے کہ میں نے جو حق تلفیاں کی ہوئی ہیں اگر ان حق تلفیوں میں بھی مجھ سے ویسا ہی سلوک ہو اور جلدی مجھے سزا ملے تو میرا پھر کیا حال ہوگا۔اس کے نتیجے میں میں اس دنیا میں رہنے کے لائق بھی رہوں گا کہ نہیں۔یہ وہ مضمون ہے جس کا ایک بہت سا حصہ انسان کی نظر سے مخفی رہتا ہے اور مومن کی نظر سے بھی اس کا ایک حصہ مخفی رہتا ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو اکثر چھپائے رکھتے ہیں اور اسی طبعی رحجان کے نتیجے میں اپنی خوبیوں کو ابھار کر اور نکھار کر پیش کرتے ہیں اس لئے ہمارے جو حالات ہماری سطح پر دکھائی دیتے ہیں وہ در حقیقت ہماری تمام حقیقت کو آشکار کرنے والے نہیں ہوا کرتے۔ہماری وہ حقیقتیں جو نا پسندیدہ ہیں جو مکروہ ہیں جو اس بات کی سزاوار ہیں کہ ہمیں سزائیں دی جائیں وہ حقیقتیں جہاں تک ممکن ہیں ہم اپنی ذات کے اندر چھپائے رکھتے ہیں اور وہی باتیں ظاہر کرتے ہیں جن میں خیر کی طلب ہو جن کے نتیجے میں خیر کی توقع ہو۔پس انسانی زندگی پر اگر اس آیت کے مضمون کو اطلاق کر کے دیکھیں تو اکثر انسان کا مخفی حصہ وہی ہے جو بدی سے تعلق رکھنے والا ہے اور انسان کا اکثر اچھا