خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 285 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 285

خطبات طاہر جلد ۹ 285 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۹۰ء برائی کی توقع ایک اور رنگ میں ظاہری ہوتی ہے یعنی اپنی بداعمالیوں پر نظر کرتے ہوئے یہ خوف انسان کو لاحق رہتا ہے کہ میں ان بداعمالیوں کے نتیجے میں کسی برے نتیجے کا شکار نہ ہو جاؤں اس لئے خدا سے وہ دعائیں کرتا رہتا ہے، استغفار کرتا رہتا ہے، تمنا رکھتا ہے کہ جانتے بوجھتے دیکھتے ہوئے بھی صرف نظر فرمائے۔لاعلمی کے نتیجے میں نہیں بلکہ اپنے حسن خلق کے اظہار کے طور پر۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے اور در حقیقت وہ لوگ جو اپنی بداعمالیوں سے صرف نظر کرتے چلے جاتے ہیں ان کا انجام اس میں دکھایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ان کی تمام بدیاں ان کی نظر سے غائب ہو جاتی ہیں۔اندھا پن جو اس آیت میں ظاہر کیا گیا ہے وہ اپنی بدیوں کے حقائق سے اندھا پن ہے۔فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ فرمایا گیا ہے۔وہ اپنی سرکشی میں ، اپنی بداعمالیوں میں اس طرح آگے بڑھتے ہیں جیسے ایک اندھا بغیر علم کے کہ یہ راہ اس کو کہاں لے کر جائے گی وہ آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔وہ اپنی طغیانیوں کی لہروں پر موج در موج آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں جبکہ اپنی راہ کی تعین کرنا ان کے اختیار میں نہیں ہوتا جس طرف طغیانی کی لہریں ان کو لے جاتی ہیں پھر اسی طرف سے وہ بہتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم وہ ممتحن تو نہیں جو تمہاری غلطیوں سے ناواقف رہتے ہیں۔ہماری تو باریک در بار یک کمزوریوں پر اور بار یک در بار یک نیکیوں پر بھی نگاہ رہتی ہے۔لیکن ہم اپنی مغفرت میں صرف نظر کے لحاظ سے اتنا وسیع حوصلہ رکھتے ہیں کہ ہم تمہیں ڈھیل پر ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں کہ شاید کوئی وقت ایسا آئے کہ تم اپنے کئے پر پچھتاؤ اور شرمندہ ہو اور اچانک تمہارا ضمیر بیدار ہو جائے اور تم واپسی کی فکر کرو۔یہ وہ مضمون ہے جو اس آیت میں بیان ہوا ہےاور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو ہمیں دیکھو ہم کتنا بڑا حوصلہ رکھتے ہیں۔اگر ہم بھی تمہاری طرح اپنے اعمال کا اجر حاصل کرنے میں جلدی کرتے یعنی اگر ہم بھی تمہاری طرح بے صبری کا نمونہ دکھاتے اور جس طرح تم اپنے اعمال کے نتائج حاصل کرنے میں، جو اچھے اعمال ہیں، جلدی کرتے ہو، اپنی محنت کا پھل حاصل کرنے میں جلدی کرتے ہو، اسی طرح ہم تمہاری بدیوں کا پھل دینے میں جلدی کرتے تو تمہاری بدیاں تمہارے نیک اعمال پر اس طرح غالب ہیں کہ تمہاری صف لپیٹ دی جاتی اور تمہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی۔گویا عمر کے جو پیمانے اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں ان کا در حقیقت ہمارے نیک اعمال یا بد اعمال سے براہ راست