خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 284 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 284

خطبات طاہر جلد ۹ 284 خطبه جمعه ۲۵ رمئی ۱۹۹۰ء یہ تشریحی ترجمہ ہے اس آیت کریمہ کا جس کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی۔اس کا اطلاق کافروں پر ہوتا ہے ان لوگوں پر ہوتا ہے جو خدا کی لقاء کی توقع نہیں رکھتے لیکن مومنوں کے لئے بھی اس آیت میں بہت ہی نشانات ہیں اور بہت ہی غور و فکر کے مقامات ہیں اور کافروں کی جو تقدیر یہاں بیان کی گئی ہے دراصل اس کی بنیاد انسانی فطرت پر ہے اور انسانی فطرت کے لحاظ سے مومن بھی اس فطرت میں شریک ہے۔اگر چہ اس کی فطرت بعض حالات میں مختلف رنگ میں ردعمل دکھاتی ہے لیکن جہاں تک فطرت انسانی کا تعلق ہے وہ کافر اور مومن میں یکساں ہے اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ایک انسانی فطرت میں یہ بات داخل ہے کہ اچھی چیز کے لئے وہ جلدی کرتا ہے اور اپنی بداعمالیوں پر نگاہ نہیں کرتا اور غلط کاموں کے نتائج سے نہ صرف یہ کہ غافل رہتا ہے بلکہ ایک موہوم سی توقع لگائے رکھتا ہے کہ شاید وہ نتائج نہ ہی نکلیں۔یہ وہ فطرت ہے جو کافر اور مومن دونوں میں مشترک ہے، یہ ایسی فطرت ہے جس میں بچے بھی اسی طرح مبتلا ہیں جس طرح جوان اور بوڑھے۔ایک سکول کا بچہ جب امتحان دے کر آتا ہے تو جہاں تک اس کے پرچے کے اس حصے کا تعلق ہے جہاں اس نے اچھا جواب دیا ہو، وہ امید رکھتا ہے کہ وہ نمایاں اور روشن ہو کر ممتحن کو دکھائی دے گا اور اس کے لئے گنجائش ہی کوئی نہیں نمبر کاٹنے کی اور جو برا پر چہ کیا ہوا ہو اس کے متعلق اپنی تصور کی آنکھیں بند کر لیتا ہے کہ متن کو شاید نظر نہ آئے۔وہ غالباً سرسری طور پر گزر جائے گا اور ہر غلطی کو پکڑ نہیں سکے گا۔اب یہ ایک سادہ سی بات ہے اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں لیکن یہی بات جب روز مرہ کی زندگی میں انسان کے اعمال سے تعلق رکھتی ہے اور سنجیدہ اعمال سے تعلق رکھتی ہے تو پھر مومن اور کافر کے رد عمل میں ایک فرق پیدا ہو جاتا ہے۔کافر اپنی بداعمالیوں سے اسی طرح بے خبر رہتا ہے جیسے ایک بچہ اپنے غلط حل کئے ہوئے پرچے کے نتائج سے بے خبر ہوتا ہے یا اس سے عمدا آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ایک مومن اپنے نیک اعمال سے بڑھ کر اپنے بد اعمال پر نگاہ رکھتا ہے اور ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ کہیں میں بداعمالیوں کے نتیجے میں پکڑا نہ جاؤں۔پس جہاں تک فطرت انسانی کا تعلق ہے وہ تو یکساں ہی ہے لیکن شعور کے نتیجے میں انسان کے ردعمل میں تبدیلیاں ہونے لگتی ہیں۔ایک جگہ بھلائی کی توقع اتنی زیادہ ہے کہ وہ حرص میں تبدیل ہو جاتی ہے اور برائی سے انسان غافل ہوتا چلا جاتا ہے۔ایک جگہ