خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 273

خطبات طاہر جلد ۹ 273 خطبه جمعه ۸ ارمئی ۱۹۹۰ء چلے جارہے ہیں۔ایک وہ دور تھا جب کہ حیدر آباد میں یا کراچی میں جب مسلمان دوسرے مسلمانوں کے گلے کاٹتے تھے اور فخر محسوس کرتے تھے کہ ہم نے اپنے دوسرے بھائیوں کے اتنے آدمی مار دئے یا اتنے آدمی اغواء کر لئے یا اتنا ظلم کیا تو جب بھی پولیس کی طرف سے یا فوج کی طرف سے مؤثر کارروائی ہوتی تھی تو کچھ عرصہ کے لئے یہ جوش و خروش دب جایا کرتا تھا۔اب خبریں یہ آرہی ہیں کہ فوجی مداخلت کے باوجود اور کرفیو کے باوجود مسلسل اسی طرح قتل و غارت جاری ہے اور حیدر آباد سندھ میں فوج کو جہاں اور کوئی پناہ کی جگہ نہ ملی اس نے مسجدوں کے میناروں پر قبضہ کیا اور وہاں سے شرپسندوں پر گولیاں برسائیں اور یہ حالات آج کل کے حالات ہیں جبکہ اس ملک کی بقاء کا مسئلہ در پیش ہے ایک انتہائی طاقتور دشمن کا سامنا ہے جس کے دوسرے بازو پر افغانستان کی حکومت ہے جو ایک لمبے عرصے سے پاکستان سے کئی شکائتوں اور شکووں کی بناء پر موقع کی تلاش میں ہے کہ کسی وقت ان کو موقع ملے تو وہ اپنے پرانے بدلے اتارے اور قوم کو کوئی حس نہیں صرف یہ نہیں کہ جس نہیں ہے بلکہ بے حسی کے نتیجے میں جو گناہ پیدا ہوتے ہیں ان گناہوں میں تیزی پیدا ہو رہی ہے اور شرم و حیا اس طرح قوم کی آنکھوں سے اور اس کے چہرے سے غائب ہورہے ہیں جیسے کبھی ان سے کوئی تعارف ہی نہیں تھا۔چنانچہ ایک عجیب خبر میں نے کل اخبار میں دیکھی یا پرسوں کی بات ہے جس سے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے میرے اوپر بجلی گر گئی ہو۔ایسی دردناک اور ایسی ہولناک خبر ہے اور سرخی لگانے والے نے بڑے مزے سے سرخی لگا کر اس طرح واقعہ بیان کیا ہوا ہے جیسے کوئی بہت ہی دلچسپ اور لذیذ واقعہ ہوتا ہے۔وہ خبر یہ ہے کہ پہلے تو کلاشنکوفس اکٹھی کی جاتی تھیں آج کل بجلی سے چلنے والے آروں کی اتنی مانگ بڑھی ہے کہ ملک میں یہ آرے ملنے بند ہو گئے ہیں اور بلیک پر فروخت ہوتے ہیں اور سمگلنگ کی جارہی ہے کہ کسی طرح اس کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جا سکے اور ان آروں کی اس لئے ضرورت ہے کہ اپنے مخالف دھڑوں کے ہاتھوں کی اور پاؤں کی انگلیاں کاٹی جائیں اور بجلی سے چلنے والے آروں سے وہ کہتے ہیں جو لذت محسوس ہوتی ہے دوسرے کی انگلیاں کاٹنے کی ویسے عام آرے میں مزہ نہیں ہے اور یہ خبر شائع ہو رہی ہے پاکستان کے اخباروں میں اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی کسی نے کوئی حیا محسوس نہیں کی ، کوئی دل نہیں لرزا اور ساتھ ہی یہ خبریں شائع ہورہی