خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 274
خطبات طاہر جلد ۹ 274 خطبه جمعه ۱۸ارمئی ۱۹۹۰ء ہیں کہ شریعت بل نافذ ہو گیا اور ہمیشہ کے لئے اسلامی شریعت اس ملک میں نافذ ہوگئی ہے۔انا لله وانا اليه راجعون - کیا شیطانی اعمال پر بھی اسلامی شریعت نافذ ہوسکتی ہے۔کیا یہ اسلامی اخلاق ہیں اور یہ مسلمانوں کا بھی بھائی چارہ ہے جس کے اوپر اسلام کا رنگ کسی طرح بھی چڑھ سکتا ہے اور اس قدر بے حیائی اور بیبا کی پیدا ہو چکی ہے کہ فلموں کی مثالیں حضرت اقدس مصطفی ہے کے زمانے سے دی جا رہی ہیں۔چنانچہ چک سکندر کے متعلق ایک اور خبر شائع ہوئی کہ علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جس دن وہاں خون کی ہولی کھیلی گئی اور نہایت ہی سفا کا نہ واقعات ہوئے اور احمدیوں کو ان کے مکانوں میں زندہ جلانے کی کوشش کی گئی نہتی عورتوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔یہاں تک کہ جانوروں سے بھی اس قدر بغض کا اظہار کیا گیا کہ جانوروں کو گولیاں مار مار کے ان پر تیل چھڑک کے ان کو آگ لگائی گئی۔یہ جو خوفناک اور بھیانک واقعات ہوئے ہیں ان واقعات کا حضرت اقدس محمد مصطفی عمل ہے اور آپ کے غلاموں کی سنت سے کوئی دور کی بھی نسبت دے تو اس نسبت دینے والے کو شیطان تو کہا جا سکتا ہے مسلمان نہیں کہا جا سکتا لیکن ان علماء نے بڑے فخر سے یہ اعلان کیا ہے کہ اس دن جس دن ہم نے یہ ظلم کئے تھے۔اس دن ہم چک سکندر میں یوم بدر منائیں گے نعوذ باللہ یہ بدر کی فتح کا دن تھا۔آپ سوچیں جس کو اسلام کی تاریخ سے ادنی سی بھی واقفیت ہو اور یوم بدر کا اس کو معلوم ہو کہ وہ کیا دن تھا کس طرح چند نہتوں نے خدا کے نام پر اپنے جگر گوشے خدا کے حضور میدان جنگ میں ڈال دیئے تھے اور کس طرح ایک بہت بڑے طاقتور دشمن کو ان خدا کے برگزیدہ بندوں نے جونہایت کمزور اور دنیاوی ساز وسامان سے بھی آراستہ نہیں تھے جن کے پاس پورے ہتھیار بھی نہیں تھے ، اس بڑے غالب دشمن کو اس طرح شکست دی کہ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں شاذ کے طور پر کہیں دیکھی جاسکتی ہوگی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ دنیا کی غیر مذہبی تاریخ پر بھی نظر ڈال کر دیکھیں تو ایسے کمزور، ساز وسامان سے عاری کسی ایسی چھوٹی فوج کو جو اس طرح نہتی ہو کہ ان کے ہر سپاہی کے پاس معمولی ہتھیار بھی نہ ہوں اتنے بڑے اور غالب دشمن پر اس قسم کی غالب اور فیصلہ کن فتح کبھی نصیب نہیں ہوئی ہوگی۔وہ لوگ تھے جنہوں نے دعاؤں کے ساتھ ، تقویٰ کے ساتھ اور خدا سے ڈرتے ڈرتے اپنی