خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 272 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 272

خطبات طاہر جلد ۹ 272 خطبه جمعه ۸ ارمئی ۱۹۹۰ء اگر انسان توجہ اور غور سے ان بدلتے ہوئے حالات پر غور کرے تو ان میں سے ہر حالت میں اس کے لئے کچھ سبق پوشیدہ ہوتے ہیں۔ایک زمانہ تھا جبکہ پاکستان کو خطرات کا سامنا در پیش ہوا کرتا تھا جب اس قوم کی چھپی ہوئی خوبیاں ابھر کر باہر آجایا کرتی تھیں اور اس وقت دل میں ایک یقین پیدا ہوجاتا تھا کہ یہ قوم زندہ رہنے والی قوم ہے۔باوجود اس کے کہ اس زمانے میں بھی کچھ بدیاں قوم میں راہ پا جاتی تھیں اور وقتا فوقتاً سر اٹھاتی رہتی تھیں لیکن مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار ہندوستان سے لڑائی کا خطرہ در پیش ہوا تو اچانک سارے پاکستان میں یوں معلوم ہوتا تھا جیسے نیکیوں کی ایک ہوا چل پڑی ہے، ایک لہر دوڑ رہی تھی جس کی آواز فضا میں سنائی دیتی تھی اور کسی انسان کے لئے شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی تھی کہ یہ قوم خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت سی خوبیوں کی مالک ہے جو وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق ابھرتی ہیں اور ان خوبیوں کی بناء پر ایک انسان یہ فتوی دے سکتا تھا کہ یہ قوم زندہ رہنے کے لائق ہے اور اس میں زندگی کی ساری علامتیں پائی جاتی ہیں۔پھر ایک دوسری جنگ آئی پھر بھی ہم نے یہی کچھ دیکھا مگر نسبتا کم ، پھر ایک تیسری جنگ آئی اور اس میں بھی ہم نے یہی کچھ دیکھا مگر ان خوبیوں کے اظہار میں کچھ اور کمی آگئی۔اس کے بعد ایک لمبا عرصہ ایسے ابتلاء کا گزرا ہے جس کے نتیجے میں معلوم یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے باشندوں کی نیکیاں سوکھنی شروع ہوئیں اور اس کی پہچان کا آج وقت ہے یہ وقت کسی تبصرے کا محتاج نہیں بلکہ خود بول رہا ہے اور اب پھر پاکستان کی چاروں طرف سے سرحدوں کو شدید خطرہ لاحق ہے اور اتنا بڑا خطرہ ہے کہ دنیا کے مبصرین سمجھتے ہیں کہ پہلے کسی جنگ سے پاکستان کو ایسا خطرہ در پیش نہیں ہوا تھا جیسا اس جنگ سے ہوگا اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے مقابل پر ہندوستان کو بھی شدید نقصانات پہنچیں گے اور مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جنگ اگر چھڑی تو چند دنوں کی جنگ نہیں ہوگی بلکہ لمبے عرصے تک دونوں ملکوں کی اقتصادی حالت کو کلیۂ تباہ کر کے ختم ہوگی۔اس شدید خطرے کے باوجود،جیسا خطرہ آج تک اس ملک کو کبھی پیش نہیں آیا تھاوہ ابھرتی ہوئی خوبیاں دکھائی نہیں دے رہیں بلکہ ساری قوم خود اپنے ہی گناہوں کی طغیانی میں ڈوبی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔وہ ظلم اور وہ سفا کی جو مسلمانوں کے ہاتھ سے دوسرے مسلمانوں پر روار کھے جارہے ہیں ان میں نہ صرف یہ کہ کوئی کمی نہیں آئی بلکہ پہلے سے بڑھتے