خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 259

خطبات طاہر جلد ۹ 259 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء طرح علم نہیں۔جنہوں نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام سے استفادہ نہیں کیا۔جن کو جماعت کے طور اطوار اور رہن سہن کے اور عادات اور خصائل سے بھی پوری واقفیت نہیں ہے بلکہ بہت سے ایسے علاقے بھی ہیں ، بہت سے تو نہیں مگر چند ایسے علاقے اور دیہات ہیں جہاں ان کا اٹھنا بیٹھنا طرز زندگی ، رسم و رواج سب ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوکر غیر احمدی ماحول کے رنگ میں رنگے گئے ہیں اور ان کو دیکھ کر ان کے گھروں کے رہن سہن کو دیکھ کر ، ان کے گفتگو کے سلیقے کو دیکھ کر نمایاں طور پر کوئی امتیاز دکھائی نہیں دیتا۔ان کی شادیاں ان کے غیر احمدی رشتے داروں میں ہو گئیں۔ان کے گھر کی مستورات نے دوسری مستورات سے اس قسم کی بیہودہ پرانی رسمیں ورثے میں لے لیں اور چونکہ وہ اٹھنا بیٹھنا ان کے ساتھ رہا، اس لئے عملاً روز مرہ کی زندگی میں ان میں اور مخلص تربیت یافتہ احمدی گھروں میں ایک نمایاں بعد پیدا ہو گیا اور غیر احمدی گھروں کے ساتھ مل جل کر وہ اسی معاشرے کا ایک حصہ بن گئے۔ان کی طرف بھی توجہ کی شدید ضرورت ہے۔چنانچہ جہاں بھی اکا دکا ارتداد کے واقعات ہوئے ہیں وہاں ایسے ہی لوگوں میں سے ہوئے ہیں۔یہ بھی حیرت کی بات ہے کہ اتنے غیر معمولی دباؤ کے باوجود اور بعض علاقوں میں ایسی شدید کمزوریاں ہونے کے باوجود اتنا تھوڑا ارتداد ہوا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی تقدیر نے اپنے مضبوط ہاتھوں سے احمدیوں کو تھام رکھا ہے ورنہ اتنے غیر معمولی دباؤ کے نتیجے میں تو یوں معلوم ہوتا تھا کہ پاؤں تلے سے تختے نکل جائیں گے۔اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی سہارا دیا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل رہیں۔قرآن کریم نے کھول کر جو ذمہ داریاں ہم پر ڈالی ہیں ہمارا فرض ہے کہ ان کو پہلے سے بڑھ کر آج کے حالات میں سرانجام دیں اور ان نصائح سے فائدہ اٹھائیں جو ہماری دنیا بھی سنوار نے والی ہیں اور آخرت بھی سنوارنے والی ہیں۔پاکستان کے لئے تو اسی رنگ میں کثرت کے ساتھ واقفین عارضی کا جماعتوں میں بھجوایا جانا ضروری ہے جیسے پہلے چلتا چلا آرہا ہے لیکن جیسا کہ میں نے کہا تھا کچھ فرق ہے۔قرآن کریم کی نصیحت یہ ہے کہ پہلے ان کو بلاؤ ان کی کچھ تربیت کرو پھر ان کو بھیجو۔جو ہمارے ہاں وقف عارضی کا نظام جاری ہے اس میں جو شخص جس حالت میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہے اسی حالت میں اس کو بھجوادیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں میں نے غور کیا ہے تو میرے خیال میں کچھ عملاً دقتیں بھی ہیں۔غالبا یہ ممکن