خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 258
خطبات طاہر جلد ۹ 258 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء ہیں۔کئی قسم کی خامیاں ہیں جو پہلے نئے آنے والوں کو دے دیتے ہیں اگر ان کی اپنی تربیت نہ ہو۔اس لئے قرآن کریم نے یہ بہت ہی عظیم الشان، حکیمانہ نصیحت فرمائی اور یہ تاکیدی نصیحت فرمائی کہ اول تو بہترین بات تو یہ ہوتی کہ سارے مومن ہمہ تن اس کام پر لگ جاتے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ تم لوگوں کو اور کام ہیں اور مصروفیات ہیں اس لئے باری باری تم میں سے گروہ در گروہ ایسے لوگ ہوں جو اپنے آپ کو وقف کریں۔وہ دین کی تربیت اس رنگ میں حاصل کریں کہ ان کو تفقہ حاصل ہو جائے اور تفقہ کے نتیجے میں وہ دوسروں کی تربیت کرنے کے اہل بن جائیں۔اس طریق پر وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکیں گے اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ صرف وہی چندلوگ ہوں جو ایک دفعہ آئے ہیں۔اس آیت سے میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہاں ایک سلسلہ جاری کرنے کا حکم ہے اور یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ایک وقت میں کچھ آجا ئیں۔پھر دوسرے وقت میں دوسرے آجا ئیں۔پھر تیسرے وقت میں تیسرے آجائیں اور اس طرح گویا رفتہ رفتہ پوری قوم اس تربیتی دور سے خود بھی گزر جائے اور دوسروں کی تربیت کرنے کی بھی اہل ہوتی چلی جائے۔اس سے ملتا جلتا ایک نظام جماعت احمد یہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے جاری فرمایا تھا جس کا نام وقف عارضی ہے۔بہت سے پہلوؤں سے وہ نظام اس نظام سے ملتا ہے۔کئی پہلوؤں سے ذرا مختلف بھی ہے لیکن اس نظام کی بھی اپنی جگہ شدید ضرورت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کچھ عرصہ سے جماعت اس پروگرام سے آنکھیں بند کئے رہی ہے۔اب جب ہم نے مرکزی انتظام میں کچھ تبدیلی پیدا کی ہے اور اس شعبے کے سربراہ زیادہ توجہ دے رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان سے یہ خوش کن خبریں مل رہی ہیں کہ اب پہلے سے بڑھ کر لوگ وقف عارضی کے لئے اپنے آپ کو پیش۔کر رہے ہیں۔یہ جو خطرات میں نے بیان کئے ہیں۔پاکستان میں بھی خطرات تو ہیں لیکن ذرا مختلف رنگ میں یہاں تو یعنی افریقہ میں یا دوسرے ممالک میں جہاں جماعتیں کثرت سے پھیل رہی ہیں ، وہاں تو نئے آنے والوں پر حملہ ہورہا ہے۔پاکستان میں پرانوں پر حملہ ہو رہا ہے خصوصاً ان نسلوں پر جو پیدائشی احمدی ہیں جنہوں نے احمدیت کمائی نہیں ہے بلکہ ورثے میں پائی ہے۔ایک لمبے عرصے تک عدم توجہ کے نتیجے میں بعض پاکستانی دیہات میں ایسی احمدی نسلیں پیدا ہوئیں جن کو اپنے عقائد کا خود پوری