خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 260
خطبات طاہر جلد ۹ 260 خطبہ جمعہ ا ارمئی ۱۹۹۰ء نہیں ہے کہ پاکستان کے ہر حصے سے لوگ وقف کرتے ہوئے ربوہ پہنچ جائیں پہلے وہاں جا کر تربیت حاصل کریں پھر واپس لوٹیں لیکن ضلعی طور پر بعض جگہ یہ انتظام ممکن ہے۔اسی طرح کچھ لوگ اگر اپنے آپ کو لمبے عرصے کے لئے وقف نہ کر سکتے ہوں اور تربیت کے لئے ان کے پاس اتنا وقت نہ ہو کہ وہ خود آکر تفقہ کریں تو اس کا ایک متبادل طریق ہے کہ وقف عارضی کا شعبہ پرانے واقفین عارضی کی فائلوں کا مطالعہ کر کے اس سے ایسے اقتباسات الگ کر لیں جو نئے واقفین کی تربیت کے لئے مفید ہوسکیں۔ان فائلوں میں کثرت سے ایسا مواد موجود ہے جس کو پڑھنا ہی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہمارے نئے واقفین کو ایک نئی روشنی عطا کرے گا۔وہاں بہت سے ایسے روحانی تجارب ہیں جن کا ذکر ملتا ہے کہ اگر چہ ایک آدمی ادنی روحانی حالت لے کر وقف میں گیا لیکن وہاں خدا کے فضل کے ساتھ ایسے نشانات دیکھے اور ایسے روحانی تجارب نصیب ہوئے کہ ایک نئی روحانی زندگی لے کے لوٹا ہے اور ان واقعات کا مطالعہ بہت ہی ایمان افروز ہے۔پھر جماعتوں کی کمزوریوں کے ذکر ملتے ہیں کہ کیا کیا کمزوریاں ہیں۔ایک واقف عارضی کو کیا کیا مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔غرضیکہ بہت سے لمبے تجربے کے نتیجے میں عملاً ہمارے لئے تربیت کا مواد اکٹھا ہو چکا ہے۔اس کو ایک بڑی کتاب کی صورت میں نہ سہی بلکہ نہیں کرنا چاہئے۔مختلف رسالوں کی صورت میں شائع کریں۔کوئی نظام سے تعلق رکھنے والا رسالہ ہو کہ آپ نے کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا ، کچھ جماعتی حالات کے متعلق کہ اس قسم کے حالات آپ کو درپیش ہوں تو آپ کو کیا کرنا چاہئے پھر ایمان افروز واقعات سے متعلق رسائل ہوں ان کو طبع کرا کر جب کوئی شخص اپنے آپ کو عارضی طور پر وقف کے لئے پیش کرتا ہے تو اس کو تحفتہ ایک پیکٹ بھجوائیں اور اس کو کہیں کہ خوب اچھی طرح ان کا مطالعہ کرے اور اپنے آپ کو جانے کے لئے تیار کرے۔اس کے علاوہ بہت ہی ضروری ہے کہ جب پتہ چل جائے کہ فلاں شخص واقف عارضی ہے تو اسی جگہ سے جہاں تک ممکن ہو سکے اس کے لئے ابتدائی قرآن کریم کا ناظرہ سکھانا اور کچھ حصہ ترجمے کے ساتھ یاد کروانا اور کچھ حصہ عربی گرائمر کے ساتھ ترجمہ یاد کروانا ، یہ کام بہت ہی ضروری ہے اسے فوراً شروع کر وا دینا چاہئے۔یہ بڑے لمبے تربیت کے مراحل ہیں یہ کوئی جنتر منتر نہیں ہے کہ جو آپ پھونکیں تو چند دنوں میں ہی آپ کو نتیجے حاصل ہو جائیں۔پہلے تو لوگوں کو آمادہ کرنا کہ وہ دین کی طرف متوجہ