خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 246 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 246

خطبات طاہر جلد ۹ 246 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء قدرت ان نتائج کے مقابل پر کوتاہ رہ جائے گا جو آپ کو نصیب ہوں گے۔قوانین قدرت تو یہ بتاتے ہیں کہ آپ کی محنت کا زیادہ سے زیادہ برابر نتیجہ نکل سکتا ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک ہم نے ملاحظہ کیا ہے محنت کا برابر نتیجہ بھی نہیں نکلا کرتا۔کیونکہ محنت میں کچھ حصہ ضیاع کا ہو جاتا ہے۔کچھ چیزیں ضائع ہو جاتی ہیں۔مثلاً جب آپ موٹر میں پٹرول ڈالتے ہیں تو اگر چہ اس کی طاقت کا ایک بڑا حصہ پہیوں کو چلانے میں کام آتا ہے اور دیگر بجلی کے کل پرزوں کو چلانے میں کام آتا ہے۔لیکن فریکشن (Friction) کے نتیجے میں اور کچھ مشین کی خرابی کے نتیجے میں مشین میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ تمام طاقت کو وہاں منتقل کر سکے جہاں منتقل کرنا مقصود تھا ایک حصہ اس کا ضائع چلا جاتا ہے۔اسی لئے آپ اگر سائنسی محاوروں سے واقف ہوں تو آپ مشینوں کے متعلق یہ بھی لکھا ہوا پائیں گے کہ اس کی Efficiency ستر فیصدی ہے۔اسی فیصدی ہے ، نوے فیصدی ہے، آج تک کوئی کار ایسی ایجاد نہیں ہوئی کوئی بھی مشین دنیا میں ایسی ایجاد نہیں ہوئی جو سو فیصدی امانت کے ساتھ آپ کی طاقت کا پھل آپ کو عطا کر دے۔پس وہ جو درمیان میں Friction ہے وہ دراصل مشین کی خیانت ہے۔وہ کچھ حصہ اپنے لئے رکھ لیتی ہے کچھ ضائع کر دیتی ہے۔پس اس میں ہمیں ایک اور نکتہ بھی ہاتھ آیا کہ جتنا خدا کی راہ میں کوئی امین ہوگا اتنا ہی اس کی محنتوں کو بہتر پھل لگیں گے اور جتنا امانت میں خیانت کرنے والا ہوگا اتنا ہی اس کی محنت کے پھلوں میں کمی آتی چلی جائے گی۔اب بظاہر دو عبادت کرنے والے ایک رات جاگ کر خدا کی راہ میں کھڑے رہتے ہیں۔لیلۃ القدر میں یعنی لیلۃ القدر کی رات سمجھتے ہوئے ۲۷ / رمضان کو مثلاً بعض ایسے لوگ بھی عبادت کے لئے حاضر ہو جاتے ہیں جن کو عام وقتوں میں پانچ وقت نمازوں کی بھی توفیق نہیں ہوتی لیکن بہر حال ایک جذبہ ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس گھڑی کا کوئی ایسا لمحہ ہمیں نصیب ہو جائے کہ ہماری زندگی کی ساری کو تا ہیاں دھل جائیں اور اللہ تعالیٰ مغفرت کا سلوک فرماتے ہوئے ہمیں دونوں جہان کی نعمتوں سے نوازے۔اس نیک تمنا پہ تو کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ بھی کھڑے رہتے ہیں اور ایک ایسا آدمی بھی کھڑا رہتا ہے جس کا دل عبادت میں رہتا ہے جو ہمیشہ خدا کی محبت کی تلاش میں رہتا ہے۔ان دونوں کا ظاہر ایک ہی ہے ، ایک جیسا ہی وقت ہے لیکن واقعہ ان کی عبادت کی کیا کیفیت ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سمجھ نہیں سکتا لیکن دنیا کے اندازوں کے مطابق ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ بعض لوگ اس قسم