خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد ۹ 247 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء کے ہوں گے اور بعض لوگ اس قسم کے ہوں گے۔کچھ ایسے بھی ہوں گے جو کھڑے رہتے ہیں۔ان کو تکلیف محسوس ہوتی ہے بار بار دل اکتا جاتا ہے، تھکاوٹ محسوس کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ ہم کھڑے رہیں اور خدا کو یاد کریں لیکن دوسرے تصورات ، دوسرے خیالات ،فکریں، آرزوئیں ان کا دامن تھامتی ہیں اور دعا کرتے کرتے ان کی توجہ بکھر کر ادھر ادھر چلی جاتی ہے اور خدا سے ہٹ جاتی ہے۔کچھ ایسے ہیں جن کی عبادت کا اکثر حصہ اسی کیفیت میں گزرتا ہے۔کچھ ایسے ہیں جن کی عبادت کا نسبتا کم حصہ اس کیفیت میں گزرتا ہے۔کچھ ایسے ہیں جن کی عبادت پر خدا کی یاد کا، خدا کی محبت کا غلبہ رہتا ہے۔کچھ ایسے ہیں جن کی عبادت پر دنیا کی محبتوں کا غلبہ رہتا ہے اور خدا کی محبت کی جھلکیاں کہیں کہیں ان کی دکھائی دیتی ہیں۔تو یہ فرق ہے امین اور غیرامین میں جو خدا کی طرف سے اس کی عبادت کا امین ہو وہ تمام تر تو جہات کو خدا کی راہ میں خرچ کر رہا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کی Output بہت زیادہ ہوتی ہے۔بنسبت ایسے شخص کے یعنی Input گو برابر ہوگی لیکن Output زیادہ ہوتی ہے۔Input سے مراد ہے جو اس نے محنت کی۔دونوں محنتیں کر رہے ہیں لیکن ایک کی محنت ضائع جارہی ہے چونکہ وہ امین نہیں ہے وہ اچھی قسم کی مشین نہیں ہے اس لئے مقصد پر خرچ کرنے کی بجائے وہ طاقت کو دائیں بائیں خرچ کر رہا ہے اور ایک شخص جو اللہ وقف ہے اور خدا کی راہ میں ایسا امین ہے کہ وہ تمام طاقتیں خالصہ خدا کے لئے خرچ کر رہا ہوتا ہے وہ مقام محمد بیت پر فائز ہے۔پس ادنیٰ مقام سے لے کر مقام محمد بیت تک لاکھوں کروڑوں دیگر مراتب اور منازل ہیں۔جن میں سے گزرتے رہنے کا نام ہی دراصل سلوک ہے۔یعنی خدا کی راہ میں قدم بڑھانا۔کوشش کرتے چلے جانا تو فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کے ساتھ جب یہ فرمایا: فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ تو یہ سبق دیا کہ دنیا میں تم جو ھنتیں کرتے ہو ان کا تو تمہیں برابر نتیجہ ملے گا۔لیکن ہم تمہیں ایک اور سلوک کا اور محنت کا راستہ بتاتے ہیں جہاں اجر لامتناہی ہو جاتا ہے۔چنانچہ لامتناہی اجر کا مضمون قرآن کریم میں ہمیشہ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ منسلک پایا جاتا ہے۔دنیا کے کسی قانون کے متعلق خدا تعالیٰ نے غیر ممنون اجر کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کو اپنی محنتوں کو زیادہ سے زیادہ ان راہوں میں