خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 245
خطبات طاہر جلد ۹ 245 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا لى إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا کو اگر سائنسی زبان میں آپ ڈھالنے کی کوشش کریں تو سائنس کا یہ مشہور محاورہ کہ:۔Output is never greater than input ہے کہ جو Output ہے وہ Input سے زیادہ کبھی نہیں ہو سکتی اور اس کا لازمی انحصار Input پر ہے۔Input انرجی Feed کرنے کا نام ہے۔کسی کام کو حاصل کرنے کے لئے آپ جو قوت خرچ کرتے ہیں اس کو Input کہتے ہیں اور اس کام کے نتیجے کو Output کہتے ہیں۔تو سائنس کے اس سادہ سے فقرے میں بہت گہرا قانون قدرت کا ایک راز بیان ہوا ہے۔جس سے مغربی قوموں نے بے انتہا فائدے اٹھائے ہیں۔گھر بیٹھے جنتر منتر سے کچھ نصیب نہیں ہوگا یہ پیغام ہے۔جو کچھ تمہیں نصیب ہوتا ہے تمہاری محنت سے نصیب ہوتا ہے اور یہ بھی یا درکھو کہ جو نصیب ہوتا ہے وہ محنت کے مقابل پر کم ہوتا ہے یہ قانون ہے ناس قانون کو جب ہم مذہبی رنگ میں سمجھتے ہیں تو بالکل ایک نیا مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔قرآن کریم بتاتا ہے کہ Input کے سوا تمہیں راحت نصیب نہیں ہو سکتی لیکن خدا کی راہ میں تم جتنی Input کرتے ہو اس سے بہت زیادہ راحت نصیب ہوگی۔یہاں سائنس کا وہ ابتدائی قانون صرف عمل پیرا نہیں رہتا بلکہ ایک قدم اور آگے یہ مضمون بڑھ جاتا ہے وَاَنْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى (النجم:۴۰) تو اپنی جگہ قائم ہے، کسی انسان کو بغیر محنت کے نہیں ملے گا۔مگر جب Input خدا کے لئے کی جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا حصہ بیچ میں ڈال دیتا ہے اور اس کے نتیجے میں پھر فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلى رَبِّكَ فَارْغَبُ کا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔جب تو خدا کی راہ میں محنت کرے گا تو پھر رغبتوں کا لامتناہی سلسلہ ہے۔ایک ایسا سلسلہ ہے جو نہ ختم ہونے والا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل ہیں جس کے لئے وہ جتنا چاہے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔پس حقیقت میں دنیا کے قوانین پر ہی قدم رکھتے ہوئے روحانیت کے قوانین تک رسائی ہوتی ہے۔یہ خیال کر لینا کہ ہم دنیاوی قانون سے بالا ہیں یہ درست نہیں ہے۔پہلے مادی قوانین جو قدرت کے قوانین ہیں اور خداہی نے بنائے ہیں ان پر عمل کرنا سیکھیں، ان کی حقیقتوں کو سمجھیں ، ان حقیقوں کو سمجھ کر ان کے مطابق اپنے زندگی کے منصوبے ڈھالیں اور منتیں کریں۔پھر یاد رکھیں کہ آپ اس مقام پر فائز ہو چکے ہیں جہاں اب دین میں آپ جب وہی راہ اختیار کریں گے تو ایک بالائی منزل تعمیر ہوگی اور وہ قانون