خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 244
خطبات طاہر جلد ۹ 244 خطبه جمعه ۴ رمئی ۱۹۹۰ء فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَب پس جب تو فارغ ہو جائے تو خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے کھڑا ہو جایا کر۔وَاِلى رَبِّكَ فَارْغَبْ پھر اپنے رب کی طرف ہی رغبت کر۔ان آیات پر میں نے پاکستان میں بعض خطبات میں روشنی ڈالی تھی۔ان تمام باتوں کو دہرانا آج مقصود نہیں ہے بلکہ ایک دو زائد باتوں کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ایک بات تو یہ ہے کہ فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَب میں ایک مضمون میں پہلے بیان کر چکا ہوں وہ یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کے لئے خدا تعالیٰ کے ذکر میں اور خدا تعالیٰ کی عبادت میں تکلیف نہیں تھی بلکہ راحت تھی اور دنیا کے کاموں میں یا دین کے وہ کام جو براہ راست عبادت سے تعلق نہیں رکھتے اور دوسری مصروفیات میں انسان کو الجھائے رکھتے ہیں ان کاموں میں وہ لذت نہیں تھی جو لذت عبادت میں تھی۔تو جس طرح عُسر کا ئیسر سے مقابلہ ہوتا ہے،عُسر اگر محنت اور مشقت اور تنگی کو کہتے ہیں تو یسر آسائش کو ، آرام کو سکینت کو کہتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ کے لئے دن کے کاموں میں ہر چند کہ وہ دین کے ہی کام تھے اور خدا کی عبادت میں وہی نسبت تھی جو عسر کو یسر سے ہوتی ہے۔چنانچہ فرمایا فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَب جب تو دین کے کاموں سے جو دن کو در پیش ہوتے ہیں لیکن براہ راست عبادت سے تعلق نہیں رکھتے ، ان سے فارغ ہو جایا کرے تو پھر اپنی مرضی سے تیرا حق ہے کہ کچھ آرام بھی کرلے اور وہ آرام یہ ہے کہ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبُ اپنے رب کی طرف رغبت کر اور خدا کی یاد سے لذت پا۔یہ وہ مقام ہے جو ابتداء میں نصیب ہونا تو درکنار انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بہت سے عبادت کر نیوالوں کے لئے ” نصب“ کا مقام تو رہتا ہے۔نصب کی منزل پہ آ کر وہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور رغبت کی منزل ان کو نصیب نہیں ہوتی۔اس لئے وہ بڑی الجھنوں کا شکار رہتے ہیں۔وہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ ہم نے تو عبادت کی ہمیں مزا نہیں آیا۔اس مزے سے پہلے وہ اندرونی نفسیاتی رحجان پیدا کرنا ضروری ہے جو محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔جب تک عبادت کے اندر محبت کی روح نہ پائی جائے اس وقت تک نہ رغبت کا مضمون سمجھ آسکتا ہے نہ رغبت نصیب ہو سکتی ہے۔پس اس آیت کریمہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، معانی کے سمندر ہیں اور بہت سی نصیحتیں ہیں، بہت سے قوانین قدرت کے راز ہیں جن سے پردے اٹھائے گئے ہیں۔