خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد ۹ 194 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء اس وقت تک ایسا شخص داخل نہیں ہو سکتا جب تک چھوٹا نہ ہو جائے اور اپنے نفس کے اونٹ کو وہ اور مختصر اور مختصر کرتا نہ چلا جائے یہاں تک کہ وہ ہلاکت کے مقام تک پہنچ جائے۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو فرمایا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُجْرِمِينَ پھر ہم اس طرح مجرموں کو سزا دیا کرتے ہیں کہ ان کی ترقی کی راہیں تنگ کر دیتے ہیں۔یہ بھی بہت ہی خوبصورت مثال ہے۔ایک انسان بعض دفعہ جاتے جاتے دیکھتا ہے کہ راستہ تنگ ہوتا چلا گیا ہے۔یہاں تک کہ وہ ایک ایسا سوراخ بن گیا ہے کہ اس میں سے وہ داخل ہو ہی نہیں سکتا۔بعض لوگ مجھے ایسی خوا میں لکھتے ہیں اور وہ لکھتے ہیں کہ اس سے دل پر بہت ہی دہشت طاری ہوتی ہے۔ایک انسان آگے بڑھنا چاہتا ہے لیکن راستہ تنگ ہوتے ہوتے اتنا چھوٹا ہو جاتا ہے کہ آدمی بے اختیار ہو جاتا ہے۔کوشش کرتا ہے آگے بڑھنے کی لیکن پھنس جاتا ہے۔پس آگے بڑھنے کی راہ میں جو روکیں ہیں وہ اپنے نفس کے تکبر کی روکیں ہیں ورنہ خدا کی راہیں کشادہ ہیں۔جب ان راہوں سے بڑا بن کر انسان وہاں سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو نہیں گزرسکتا۔پس رویا میں ایسے لوگوں کو در حقیقت یہ پیغام ہوتا ہے کہ تمہارے اندرا بھی ترقی کی گنجائشیں تو موجود ہیں لیکن تم نے اپنے نفس کو چھوٹا نہیں کیا۔اپنے نفس کو خدا کے حضور اور چھوٹا کر و۔جب چھوٹا کرو گے تو ان باریک راہوں سے بھی تم بڑی آسانی سے گزر جاؤ گے۔آج کل سائنس کی ایسی فلمیں تیار کی جاتی ہیں جو اس قسم کے نظر کے دھو کے ہیں لیکن ان دھوکوں کے نتیجے میں انسان دھو کہ نہیں کھاتا بلکہ ہدایت کی راہ پا جاتا ہے۔چنانچہ چھوٹے چھوٹے بار یک جراثیم جو جسم کے خلیوں میں داخل ہوتے ہیں ان کے متعلق خواہ کسی طرح بھی وہ بیان کریں حقیقت میں ایک طالب علم کو پورا مضمون سمجھ نہیں آسکتا۔تو سائنس کے ذریعے انہوں نے ایسے نظر کے دھو کے بنالئے ہیں کہ ایک آدمی جو سمجھا رہا ہے کہ اندر کیا ہے، وہ اتنا چھوٹا دکھائی دیتا ہے کہ اس کے مقابل پر خلیے لگتا ہے کہ ایک بہت بڑا ہال ہے اور پھر وہ خلیے ان باریک نالیوں کے ذریعے اترتا ہے جو بڑی مشکل سے دکھائی دیتی ہیں اور وہ چھوٹا سا آدمی اس میں جا کر پھر وہ چاروں طرف پھر رہا ہے وہ اندر چیزیں دیکھ رہا ہے۔وہ بچوں کو دکھا رہا ہے کہ دیکھو ! میں اس وقت فلاں جگہ پہنچ گیا ہوں۔یہاں نیوکلیس کی یہ شکل ہے۔یہ خلیے کے پردے اور نیوکلیس کے درمیان کا پانی ہے یہاں