خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 195 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 195

خطبات طاہر جلد ۹ 195 خطبہ جمعہ ۶ را پریل ۱۹۹۰ء اس قسم کی Pigments ہیں۔یہ ہے وہ ہے۔اور وہ ایسا مزیدار نظارہ ہوتا ہے کہ وہ بچے کے دل پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتا ہے یا طالب علم کے ذہن پر ہمیشہ کے لئے نقش ہو جاتا ہے تو حقیقت میں انسان چھوٹا ہو جائے تو راہیں کشادہ ہو جاتی ہیں۔اور خدا کی راہ میں چھوٹا ہونا ضروری ہے کیونکہ خدا کی راہ پر آپ نے چلنا ہے اور وہاں بڑے بن کے نہیں چلا جاسکتا۔اور اس پہلو سے بہت سے اور ایسے زاویے ہیں جن کو آپ کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔تکبر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض بہت ہی پیاری نصیحتیں فرمائی ہیں، وہ بھی آپ کے سامنے رکھنی ضروری ہیں لیکن چونکہ اب ایک گھنٹہ کے قریب وقت ہو گیا ہے۔اس لئے باقی باتیں انشاء اللہ آئندہ جمعہ میں بیان کروں گا۔یہ وہ جمعہ ہے جس کا خطبہ اس وقت فرینکفرٹ اور میونخ میں بھی سنا جارہا ہے۔اب خدا تعالیٰ نے دیکھیں نئے نئے ایسے آلات مہیا فرما دیئے ہیں، نئے نئے سائنس کے انکشافات ایسے ہو چکے ہیں جن کے نتیجے میں انسانی آواز کی پہنچ کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔پس وہ بھی ہمارے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان منتظمین کو جزاء دے جن کی کوششوں کے ذریعے یہ آواز براہ راست دوسرے ملکوں کے لوگ سن سکتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی ہدایت دے جن کی کا وش فکر کے نتیجے میں ایسی ایسی چیزیں ایجاد ہوئیں۔احسان مند ہونے کا ایک یہ بھی طریق ہے۔پس رمضان المبارک میں جب آپ دعائیں کریں تو اپنے ہر محسن کے لئے دعا کیا کریں۔مجھے ایک بچی کی بات بہت ہی پیاری لگتی ہے۔وہ چوہدری شاہنواز صاحب مرحوم کی نواسی ہے۔وہ چھوٹی سی تھی تو اسے ماں باپ نے سمجھایا کہ بیٹا دعائیں کرو۔رمضان ہے یا کسی موقعہ پر کہا ہو گا۔بہت دعائیں کیا کرو۔تو ایک دن اس سے پوچھا کہ تم نے کیا کیا دعائیں کیں۔بتاؤ تو سہی! اس نے کہا۔میں نے جو دعائیں کیں امی کے لئے ، نانی کے لئے ، نانا کے لئے ، ابا کے لئے فلاں کے لئے فلاں کے لئے۔اس کے علاوہ میں نے اس کے لئے بھی دعا کی جس نے آئس کریم ایجاد کی تھی انہوں نے کہا ہیں؟ اس کے لئے کیوں دعا کی؟ اس نے کہا۔دیکھو اس نے بچوں کا دل خوش کر دیا۔اب یہ بات تو بچگانہ ہے لیکن عارفانہ بھی ہے۔ہم لوگ جب بندوں کا احسان نہیں دیکھ سکتے تو خدا کا احسان بھی نہیں دیکھ سکتے۔اس بات کو آنحضرت مہ نے بیان فرمایا : من لم يشكر الناس لا يشكر الله ( ترندى کتاب البر والصلہ حدیث نمبر : ۱۸۷۷) پس خدا کے عرفان کی