خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 193

خطبات طاہر جلد ۹ 193 خطبہ جمعہ ۶ راپریل ۱۹۹۰ء تک جنت کا راستہ بند ہے اور ہاتھی کی بجائے اونٹ کی مثال اس لئے دی گئی ہے ورنہ ہاتھی زیادہ بڑا جانور ہے، قرآن کریم میں ہاتھی کا ذکر بھی موجود ہے، اونٹ میں ایک ٹیڑھا پن بھی ہے اسی لئے تکبر میں جو بھی پائی جاتی ہے اس کی مثال اونٹ سے بہتر نہیں دی جاسکتی تھی۔صرف بڑا ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر ایک ٹیڑھا پن بھی پایا جاتا ہے۔پس قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جب تک کوئی انسان اپنے آپ کو بڑا سمجھ رہا ہے اور ساتھ ٹیڑھا بھی ہے اور یہ دونوں چیزیں تکبر میں اکٹھی چلتی ہیں، اس وقت تک اس کے لئے کوئی نجات نہیں ہے لیکن یہ فرمایا کہ یہ ممکن ہے کہ تمہارے تکبر دور ہو جائیں، یہ ممکن ہے کہ تمہای کجیاں درست ہو جائیں اور تم سیدھے ہو جاؤ۔اس لئے مایوسی کا پیغام نہیں ہے بلکہ امید کا پیغام ہے، مشکل کام ہے۔تمہیں بہت محنت کرنی پڑے گی اِنَّكَ كَادِحَ إِلى رَبِّكَ بہت مشقت کی راہ اختیار کرنی پڑے گی لیکن اگر کرو گے تو فَمُلقِيهِ اے انسان! تجھے یہ پیغام ہے کہ تو ضرور خدا کو پالے گا۔جنت تجھ پر حرام نہیں ہوئی ہے مگر جنت کی راہ بتائی جارہی ہے کہ وہ کیسی مشکل راہ ہے۔اپنے نفس کے تکبر کو توڑو۔اس کی کجیوں کو درست کرو پھر تم ضرور اس راہ پر چل پڑو گے جو حضرت محمد مصطفی اللہ کی راہ ہے اور پھر تمہیں حقیقی بلندی نصیب ہوگی۔قرآن کریم میں آسمان کے مضمون کے ساتھ ایک اونٹ کا مضمون بھی باندھا گیا ہے۔چنانچہ دوسری رکعت میں جو سورۃ ہم تلاوت کرتے ہیں اس میں یہ مضمون اکٹھا آیا ہے۔اس کے متعلق ایک دفعہ میں نے خطبے میں کچھ روشنی ڈالی تھی لیکن قرآن کریم کی آیات تو لا متناہی ہیں۔اب جو میں مضمون بیان کر رہا ہوں اس کا بھی اس کے ساتھ ایک تعلق ہے۔آسمان کی بلندی اونٹوں کو حاصل نہیں ہوا کرتی تمہیں غور کرنا چاہئے۔آسمان کی بلندی خدا کے عاجز بندوں کو حاصل ہوا کرتی ہے۔پس رفعتیں حاصل کرنی ہیں تو اونٹوں پر بیٹھ کر تمہیں رفعتیں نہیں ملیں گی۔تم یہ نہ سمجھنا کہ دنیا کی ان سواریوں کے مالک ہو جاؤ۔بلند سواریوں پر دوڑ نے لگو تو تم بہت ہی عظیم الشان وجود بن جاؤ گے بلکہ حقیقی رفعتیں عجز سے حاصل ہوتی ہیں۔اونٹ کے متعلق دوسری جگہ جو فر ما دیا کہ وہ داخل ہی نہیں ہوسکتا تو اونٹ پر بیٹھا ہوا کہاں سے داخل ہو جائے گا۔یہ مضمون ہے جس میں غور کی طرف وہاں دعوت دی گئی ہے کہ اونٹ ہے تو بڑا اونچا جانور، اچھا بھلا تیز دوڑ بھی لیتا ہے، لیکن ٹیڑھا ہے اور تم اگر اونٹ کی راہ اختیار کرو گے تو تم متکبر بن جاؤ گے۔پس فرمایا: لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ