خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 192
خطبات طاہر جلد ۹ 192 خطبہ جمعہ ۶ راپریل ۱۹۹۰ء سچی بلندی حاصل کرنے والے کو بجز نصیب ہوتا ہے۔نا ہے یہ دو مضمون آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں اور یہی لقاء کام کیونکہ قرآن کریم میں جس معراج کا ذکر ہے وہ لقاء کا معراج ہے۔کسی ظاہری آسمانوں کا سفر تو نہیں ہے جس طرح بعض علماء بے چارے اپنی نا سمجھی میں اور بصیرت کی کمی کی وجہ سے سمجھ بیٹھے ہیں کہ نعوذ باللہ کوئی ظاہری گھوڑا اترا اور اس کے اوپر آنحضرت ملالہ سوار ہوئے اور پھر وہ اُڑنا شروع ہوا پروں کے ساتھ ، یہاں تک کہ ایک ایک آسمان کو پیچھے چھوڑتا چلا گیا یہ بچگانہ تصور ہے۔اصل میں صلى الله آنحضرت ﷺ کو خدا نے یہ پیغام دیا تھا کہ تو بجز کے ایک ایسے مقام تک پہنچ گیا ہے جس میں بنی نوع انسان میں کوئی تیرا شریک نہیں رہا۔ان معنوں میں خدا کی توحید کا ایک پر تو ہ آنحضرت ﷺ پر پڑا جو کسی اور انسان پر کسی اور نبی پر نہیں پڑا۔ایک رنگ میں آپ بھی واحد ہو گئے اور یکتا ہو گئے۔کبھی کوئی انسان خدا کے حضور ایسا عاجز نہیں ہوا تھا جیسے آنحضرت ﷺ خدا کے حضور تواضع اختیار فرما گئے اور اس کے نتیجے میں تمام مخلوق تو اپنی بلندیوں کے باوجود ساتویں آسمان سے اوپر نہیں جاسکی لیکن صلى الله آنحضرت ﷺ کا مقام اس سے بھی بلند تر ہوا اور اس کا تعلق بحجز سے ہے کیونکہ آنحضور ﷺ نے خود فرما دیا ہے کہ رفعتیں یعنی آسمان کی طرف بلندیاں کیسے نصیب ہوا کرتی ہیں۔اسی آیت میں پھر فرمایا لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَةِ الْخِيَاطِ نہیں کہا کہ اونٹ کانا کے میں داخل ہونا اس سے زیادہ آسان ہے کہ دولت مند جنت میں داخل ہو۔یہ مضمون جو ہے یہ ایک قسم کا محال مضمون ہے، ناممکن دکھانے والا مضمون ہے مگر قرآن کریم نے جو بیان فرمایا ہے اس میں بندے کے لئے مایوسی کی دیوار کھڑی نہیں کی۔یہاں یہ فرمایا ہے۔یہاں تک کہ اونٹ داخل ہو جائے یہ مضمون فرمایا ہے اور تکبر کا اونٹ کم بھی ہو سکتا ہے، اس کا جسم چھوٹا بھی ہوسکتا ہے، اس کی کجیاں دور بھی ہو سکتی ہیں۔اونٹ کی مثال بڑی خوبصورت مثال ہے۔حضرت مسیح علیہ اسلام کو بھی یہ مثال دی گئی اور آنحضرت ﷺ کو بھی یہی مثال سکھائی گئی لیکن طرز میں کتنا فرق ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ زیادہ ناممکن ہے کہ دولت مند خدا کی جنت میں داخل ہو بنسبت اس کے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے یا اس میں سے گزر جائے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ نہیں ، جب تک اونٹ اس قابل نہیں ہو جاتا کہ سوئی کے ناکے سے گزر نہ جائے اس وقت