خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 160
خطبات طاہر جلد ۹ 160 خطبه جمعه ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء اس ضمن میں پہلی بات تو یہ آپ کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں کہ لقاء کسی ایسے ایک لمحے کی ملاقات کا نام نہیں جو اچانک نصیب ہو جاتا ہے اور جس طرح آپ ایک دوست سے ملتے ہیں اور پھر اس سے جدا ہو جاتے ہیں اور اس کی خوشیاں دل میں لئے پھرتے ہیں۔خدا سے بھی گویا اسی قسم کی کوئی ملاقات ہوگی۔لقاء کا مضمون جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف ملفوظات اور کتب میں بہت کھول کر بیان فرمایا ہے عام انسانی ملاقات سے مختلف حیثیت رکھتا ہے۔یہ لقاء ایسی ہے جس میں جس حصے کی لقاء نصیب ہو جائے وہ پھر مستقل لقاء رہتی ہے اور اگلے کی طلب پیدا ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کی لقاء دنیا میں بیک وقت کسی کو نصیب نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ لا محدود ہے اور انسان محدود ہے اور محدود انسان لا محدود میں سفر کر سکتا ہے لیکن اس کا احاطہ نہیں کر سکتا۔پس لقائے باری تعالیٰ کا مضمون خدا کی ذات میں سفر کرنے کا مضمون ہے اور جو قدم آگے بڑھایا جاتا ہے پھر اس میں واپسی نہیں ہوا کرتی۔یہ تو نہیں ہوا کرتا کہ جتنا حصہ خدا کا پالیا پھر اس کے بعد خدا کے احاطے میں سے باہر نکل جائیں اور کہیں کہ یہ لقاء ہوگئی اب ایک دوسری لقاء کی کوشش کرتا ہوں بلکہ ایک سفر ہے جو لامتناہی ہے۔تبھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک دفعہ جب ایک کھو کھلے فلسفی نے یہ سوال کیا کہ اگر کوئی انسان سمندر میں کشتی پر سفر کر رہا ہواور کنارہ آجائے۔وہ پھر بھی کشتی میں بیٹھا رہے تو اس کے متعلق آپ کیا خیال کریں گے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ واقعہ بیان کیا ہے بڑا دلچسپ ہے۔مطلب یہ تھا کہ عبادتیں کرتے ہو اس غرض سے کہ خدا مل جائے لیکن اگر خدا مل جائے اور پھر کشتی میں ہی بیٹھے رہو تو بڑی بے وقوفی ہوگی۔تو آپ نے فرمایا کہ اگر تو کوئی کنارے والا سمندر ہو تو کشتی میں بیٹھے رہنا بہت بے وقوفی ہے لیکن اگر کوئی سمندر بے کنار ہو تو کسی مقام کو کنارا سمجھ کر وہاں جواترے گا ، وہیں ہلاک ہو جائے گا۔پس خدا تعالیٰ کی لقاء کا مضمون دراصل یہی ایک لا متناہی سفر ہے اور اس سفر میں کوئی واپسی نہیں ہے کوئی قدم پیچھے اٹھنے والا نہیں ہے کیونکہ اگر اس سفر میں واپسی شروع ہو جائے تو وہ بہت ہی زیادہ خطر ناک بات ہے۔خدا کو پانے کے بعد اس سے بے وفائی کرنا اور اس سے منہ موڑ نا ہلاکت کو دعوت دینے والی بات ہے۔پس ایسی لقاء جو مسلسل بڑھتی چلی جائے اس کو لقائے باری تعالیٰ کہتے ہیں اور جو اس دنیا میں نصیب ہونی شروع ہو جائے پھر قیامت کے دن اس لقاء کا ایک ظاہری نظارہ بھی