خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 161
خطبات طاہر جلد ۹ 161 خطبہ جمعہ ۳۰ / مارچ ۱۹۹۰ء دکھائی دے گا وہ کیا ہوگا ؟ ہم اس کا تصور نہیں باندھ سکتے۔مگر ہر شخص کی لقاء کی حیثیت اور توفیق اس دنیا میں طے ہوگی اور جتنی لقاء اس دنیا میں کسی کو نصیب ہوئی ہے۔اس سے ممکن ہے ہزاروں لاکھوں گنا زیادہ اس میں روشنی پیدا ہو جائے اور اس لقاء کی جزا یہ ہو کہ خدا ایسے دکھائی دینے لگے گویا ہماری آنکھوں کے سامنے ظاہر ہو گیا ہے۔مگر اس کے باوجود ہر شخص کی لقاء الگ الگ ہے۔چنانچہ اس گڈریے کی لقاء اور تھی جو خدا تعالیٰ سے اپنے رنگ میں پیار سے باتیں کر رہا تھا کہ تو مجھے ملے تو میں تیری جوئیں ماروں، تیرے کپڑے دھوؤں ، کانٹے نکالوں اور موسیٰ“ کی لقا اور تھی۔موسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کلیم اللہ کا لقب عطا فرمایا اور لقاء کے تعلق میں حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک خاص مقام تھا۔مگر وہ مقام محمد مصطفی ﷺ کی لقاء کے مقابل پر کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔پس وہ سفر جو ایک گڈریے کی لقاء سے شروع ہوتا ہے، وہ طور پر جا کر ختم نہیں ہوتا بلکہ طور کے بعد مقام محمد مصطفیٰ آتا ہے۔یعنی محمد مصطفی کا قلب جس پر خدا جلوہ گر ہوا تو انسانی لقاء کا مضمون کامل ہوا۔لیکن یہ مطلب نہیں کہ خدا محدود ہو گیا۔مراد صرف یہ ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ نے جتنی توفیق عطا فرمائی ہے، جتنی استطاعت بخشی ہے۔اس کی آخری حد تک خدا تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی میل کو پہنچنے کی توفیق بخشی ،لیکن ساتھ ہی معراج میں یہ بات ظاہر فرما دی کہ وہ حد آپ کی آخری حد تھی خدا کی آخری حد نہیں تھی بلکہ خدا کی حدود کا آغاز تھا۔جہاں وہ تمثیلی بیری لگی ہوئی ہے جو انسان کی حد کو خدا کی حدوں سے جدا کرتی ہے۔وہاں تک پہنچنا انسان کامل کا کام تھا لیکن یہ مراد نہیں کہ اس کے بعد خد اختم ہو جاتا ہے۔خدا تو ایک لامتناہی ہستی ہے اور پھر اپنے فضل سے اس نے کس حد تک آنحضرت ﷺ کو اپنے اندر سفر کی توفیق بخشی۔یہ ایک عام انسان خواہ وہ کیسا ہی نیک اور بزرگ اور فلسفی کیوں نہ ہو سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ یہ ایسی باتیں ہیں جن کا تصور تجربے کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتا۔بہت سی باتیں ایسی ہیں جو تجربے کے بغیر بھی سوچی جاسکتی ہیں۔بہت سی ایسی باتیں ہیں جو بغیر تجربے کے نصیب نہیں ہوسکتیں۔تبھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعوئی فرمایا کہ محد مصطفی عے کے دیدار کا دعوی کرنے والو اور دیکھنے والو جب تک میری آنکھ سے نہ دیکھو تمہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔پس اگر حضرت محمد مصطفی حملے بھی عام انسانوں کو مکمل طور پر دکھائی نہیں دے سکتے۔تو خدا تعالیٰ کے متعلق یہ تصور کر لینا کہ اس کی لقاء آنا فانا ایک جلوے کی صورت میں ظاہر ہو اور وہی اس کا منتہی بن