خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 77
خطبات طاہر جلد ۸ 77 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء جس کی پرورش مغرب نے کی ہو۔ایسے مجاہد سے ان کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے جن کی سر پرستی امریکہ کر رہا ہو۔اس لئے ان کے آنے سے تو ان کے حالات پہلے سے بہتر ہونے چاہئیں اور ان کو بظاہر امن نصیب ہونا چاہئے لیکن جن کو یہ دشمن کہتے ہیں، اس دشمن کے سائے تلے انہوں نے امن محسوس کیا ہے جس دوست کو پالا ہے اس کے طاقت میں آنے سے ڈر رہے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی انٹیلی جنس کی ایجنسیز نے ان کو مطلع کیا ہے کہ یہ انقلاب جب کامیاب ہوگا اور ان کو کامیاب ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے تو اُس وقت ایک گروہ کے طور پر کوئی طاقت بھی سیاست پر قبضہ نہیں کر سکے گی بلکہ سیاسی گروہ متفرق ایک دوسرے سے بٹ جائیں گے اور ہر ایک کوشش کرے گا کہ دوسرے کو نیچا دکھائے اور حکومت پر قابض ہو جائے۔ایک تو یہ بڑا واضح خطرہ جو ہمیں دکھائی دے رہا ہے۔دوسرا خطرہ یہ ہے کہ وہ کردار جو مجاہدین ادا کر رہے تھے روسی حکومت کے خلاف اب روسی ایجنٹس وہی کردار نئی آنے والی حکومت کے خلاف ادا کریں اور جو Terrorism اور انڈرگراؤنڈ ، زیر زمین تحریکیں ہوتی ہیں امن کو برباد کرنے والی ان تحریکوں کی روس سر پرستی شروع کر دے۔میں نہیں جانتا کہ روس کے ارادے کیا ہیں لیکن سیاست میں یہ باتیں چلتی ہیں اس لئے بظاہر کچھ عرصے تک ان علاقوں میں امن قائم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔پاکستان پر اس کے لازماً بد اثرات پڑیں گے۔وہاں کی بدامنی پاکستان پر اثر انداز ہو گی اور کئی طریق سے اثر انداز ہو گی۔اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں مگر چونکہ ایک مسلمان قوم ہے اگر چہ جماعت احمدیہ کے ساتھ اُس قوم نے احسان کا سلوک نہیں کیا، عدل کا سلوک بھی نہیں کیا ، عام انسانی سلوک بھی نہیں کیا لیکن صلى الله کاخر کنند دعوی حب پیمبرم ( در تمین فارسی صفحه : ۱۰۷) آخر ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب ہونے والی قوم ہے اور ان کے دکھ اور ان کے در د ایسے نہیں جو ہمارے دل پر گہرا اثر نہ چھوڑیں یا ہمیں بے چینی نہ دیں۔اس لئے ہم اپنے دل کے سکون کی خاطر آئندہ اس قوم کے مستقبل کے لئے دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے ، ان کو حقیقی امن عطا کرے اور حقیقی نور عطا کرے جس کے ذریعے سے یہ دائمی امن کا رستہ دیکھ سکیں اور جماعت احمدیہ کے متعلق ان کا جو گزشتہ رویہ تھا اس میں پاک تبدیلی پیدا کریں اور یہ بھی سمجھ لیں کہ جیسے بھی حالات ہیں اگر چہ ہمیں ان حالات سے تکلیف ہے لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ گزشتہ مظالم