خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 76 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 76

خطبات طاہر جلد ۸ 76 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء تاریخ ساز کام میں استعمال کریں اور اُن سے رابطے بھی رکھنے چاہئیں۔علماء سے خواہ مخواہ بدکنے کی ، ڈرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایسی فرقان عطا فرمائی ہے، ایسے عظیم دلائل عطا فرمائے ہیں کہ احمدی بچہ بھی بڑے بڑے علماء کے منہ بند کر سکتا ہے۔منہ بند کرنے کی خاطر نہیں دل جیتنے کی خاطر اُن سے رابطے رکھنے چاہئیں، اُن کو سمجھانا چاہئے ، اُن کو جماعت کے حالات سے مطلع رکھنا چاہئے۔جہاں دوسرے علاقوں میں علماء ملتے ہیں وہاں نسبتا شرافت زیادہ ہے مثلاً اگر چہ آپ کے نزدیک پٹھان علماء ، افغانستان والے علماء نہایت ہی متشد داور تنگ نظر ہیں اور واقعہ یہی صورت ہے لیکن اُن میں بہت سے ایسے خدا کے نیک بندے ہیں جو کچھ بھی سمجھتے ہیں خالصہ اللہ کر رہے ہیں اور تمام قربانیوں میں قوم کے ساتھ شامل ہیں اُن کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی آنکھوں سے پردے اُٹھائے اور اُن کی یہ قربانیاں رائیگاں نہ جائیں بلکہ سچائی کے رستے میں خرچ ہوں۔افغانستان کے حالات دن بدن بگڑ رہے ہیں اُس کی وجہ سے مجھے بہت تشویش ہے۔واقعہ یہ ہے کہ اس وقت جو وہاں انقلاب رونما ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے اُس انقلاب کے اندر بہت سے ایسے خطرات مخفی ہیں جو انقلاب کے رونما ہونے کے ساتھ ہی سر اُٹھا ئیں گے۔اس لئے وہ ہمسایہ مسلمان ملک ہے اُس کے لئے بھی ہمیں دعا کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ اُس ملک کو اگر ایک اچھا انقلاب عطا کرتا ہے تو اس انقلاب کے ساتھ جو لیٹے ہوئے خطرات ہیں ان سے ان کو بچالے۔اوّل تو یہ کہ افغان مجاہدین کے جو بھی گروہ ہیں وہ آپس میں بٹے ہوئے ہیں۔اس وقت Common Enemy Factor جس کو کہتے ہیں یعنی مشترک دشمن۔اُس کے اثر کے نتیجے میں یہ لوگ اکٹھے ہیں لیکن جو نہی طاقت پکڑیں گے اُس وقت مشترک دشمن غائب ہو چکا ہوگا منظر سے۔اُس وقت ان کے پھٹے ہوئے دل پھر ساری افغان قوم کو پھاڑ دیں گے اور نہایت خطرناک حالات ایسے پیدا ہو سکتے ہیں کہ حکومت ملے مجاہدین کو لیکن اس حال میں کہ بجائے اس کے کہ مجاہدین روسیوں کے گلے کاٹ رہے ہوں مجاہدین ایک دوسرے کے گلے کاٹنے لگیں اور یہ ایک حقیقی خطرہ ہے۔اگر یہ خطرہ درپیش نہ ہوتا تو امریکن اور برطانوی اور دوسرے مغربی سفارتکاروں کو وہاں سے نہ بلایا جاتا۔وجہ یہ ہے کہ اگر تو کوئی اشترا کی انقلاب کا خطرہ ہوتا پھر تو ان لوگوں کو وہاں خطرہ تھا۔ایسے انقلاب سے ان لوگوں کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے