خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 78
خطبات طاہر جلد ۸ 78 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء کا پھل ہیں یہ حالات اور بڑے بڑے بزرگ اور پاک شہیدوں کی روحیں ہیں جن سے دعائیں لینے کی بجائے انہوں نے اس حال میں انہیں تکلیفیں دے کر مارا کہ اگر بد دعا اُنہوں نے نہ بھی کی ہو بعض کے متعلق تو میں جانتا ہوں کہ وہ ایسے نہیں تھے کہ بد دعا کرتے ہوئے جان دیں لیکن خدا تعالیٰ کی غیرت اُن کی خاطر بعض دفعہ ایسے حیرت انگیز کرشمے دکھاتی ہے کہ اگر وہ دعا ئیں بھی کر رہے ہوں تو وہ دعا ئیں اُس وقت مقبول نہیں ہوا کرتیں اور ایک لمبے عرصے تک قوم سزا پاتی ہے۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید نے ضرور دعائیں کی ہوں گی لیکن ان دعاؤں کے جواب میں جو خدا تعالیٰ نے ان کو خبر دی وہ دنیا سے رخصت ہونے سے چند لمحے اُنہوں نے بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے بتائی اور کہا کہ دیکھو تم میری جان تو لے لو گے لیکن مجھے تمہارے متعلق بہت فکر ہے اور بہت تشویش ہے اور میں جانتا ہوں کہ ایک لمبے عرصے تک خدا کے عذاب تمہارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے اور طرح طرح کی مصیبتوں میں تم مبتلا کئے جاؤ گے۔چنانچہ وہ اپنی جان بچانے کی خاطر یہ ڈراوا نہیں دے رہے تھے بلکہ جب جان بچانے کی خاطر امیر نے اُن سے یہ کہا کہ آپ ہلکی آواز میں ہی مجھے کہہ دیں کہ آپ نے توبہ کر لی ہے تو میں آپ کی جان ابھی بھی بخش سکتا ہوں۔آپ نے فرمایا اس کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔پس یہ ڈراوا نہیں تھا یہ کوئی حقیقی خبر تھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جس کی اطلاع انہوں نے قوم کو دی۔پھر امیر نے یہاں تک کہا کہ آپ تو بہ نہ کریں مجھے اس بات کی اجازت دے دیں کہ میں اعلان کر دوں آپ کی طرف سے۔آپ کا دل صاف رہے گا ، آپ اپنا دین نہیں بدلیں گے لیکن مجھے اجازت دے دیں میں اپنے طور پر جھوٹ بول لوں لیکن میں نہیں چاہتا کہ آپ کو اس طرح ظلم کے ساتھ شہید کیا جائے۔آپ نے فرمایا میں اس کی بھی اجازت نہیں دیتا۔چنانچہ ایک غیر معمولی عظمت کے ساتھ ، غیر معمولی شان کے ساتھ انہوں نے اپنی جان خدا کے حضور میں پیش کی ہے۔ایسے ایسے عظیم شہداء ہیں کہ جن کے متعلق یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ان واقعات کو اسی طرح گزر جانے دے اور جو کچھ افغانستان میں ہو رہا ہے مجھے کامل یقین ہے کہ اس کا تعلق ماضی قریب میں ہونے والے واقعات سے نہیں بلکہ ماضی بعید میں ہونے والے واقعات سے ہے۔اُن واقعات سے ہے جن کا آغاز حضرت صاحبزداہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت سے ہوا۔