خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 747
خطبات طاہر جلد ۸ 747 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں یہ خبر شائع ہوئی کہ عظیم الشان خدا تعالیٰ کی طرف سے علماء کیرالہ کی صداقت کا نشان ظاہر ہوا ہے اور صداقت کا نشان یہ ہے کہ دو احمدیوں کا نام لے کے جو چوٹی کے تھے وہاں اس علاقے میں ان کی موت کا جھوٹا اعلان ان کی صداقت کا نشان ہے۔مجھے تعجب ہے کہ وہاں جماعت کو اور اب کیا انتظار ہے۔دو باتیں ثابت ہوئیں۔دہریوں کے لئے بھی منہ بند کرنے کے لئے ان کے پاس خدا نے ایک نشان دیا اور ان کا منہ بند کرنے کے لئے بھی ایک نشان دیا جو یہ کہتے تھے کہ دونوں ہی جھوٹے ہیں۔جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ میں نے جو طریق مباہلہ بیان کیا تھا وہ درست تھا اور خدا کے نزدیک وہی طریق مباہلہ تھا جس کو ان کو قبول کر لینا چاہئے تھا۔اس سے فرار کی راہ اختیار کی۔ان سارے الزامات سے پیچھے ہٹ گئے جو ساری دنیا میں جماعت پر لگاتے پھرتے ہیں۔پس جماعت احمدیہ کے لئے جو نصرت کے نشان بھی ہوئے ہیں وہ عالمی حیثیت کے ہیں اور یہ سال جو مباہلے کا تھا خواہ وہ میرے والا سال شمار کر لیں یا ان کا سال بھی بیچ میں شامل کر لیں۔اس کثرت سے خدا کے فضل جماعت پر نازل ہوئے ہیں کہ کوئی بالکل ہی اندھا ہو تو وہ نہ دیکھ سکے مگر اگر اس میں ٹولنے کی طاقت بھی ہو تو اس کو پتا لگ سکتا ہے۔اتنا امتیازی سال ہے یہ نشانات کا کہ انسان کی عقل حیرت زدہ ہو کہ رہ جاتی ہے۔اس کے علاوہ ایک اور بہت اہم قابل توجہ بات یہ ہے کہ نعوذ باللہ من ذالک اگر جماعت احمد یہ جھوٹی ہوتی تو سب سے بڑی پکڑ تو جماعت احمدیہ کے سربراہ پر آنی چاہئے تھی۔جس نے یہ جرات کی کہ ساری دنیا کو چیلنج کیا ہے اور سب سے زیادہ فضل اس شخص پر نازل ہونے چاہئے تھے جس کو اولین مخاطب کے طور پر پیش کیا گیا تھا لیکن دیکھیں وہ سال تو بے نتیجہ نہ نکلا۔وہ مباہلہ تو بے اثر ثابت نہ ہوا۔بلکہ اگر آپ غور کریں تو بہت عظیم نشان ہے جو تاریخ میں شاذ کے طور پر ظاہر ہوا کرتا ہے۔اس میں بہت سے پہلو ایسے ہیں جو ابھی آپ کی نظر میں نہیں لیکن بعد میں ظاہر ہوں گے۔دوطریق پر خدا نے فوری طور پر جماعت احمدیہ کی سچائی کے نشان ظاہر فرمائے۔اول ایک ایسے شخص کو جس کی وہ موت کا اعلان کر رہے تھے بلکہ یہ کہہ رہے تھے کہ مرزا طاہر کے ہاتھوں سے یا اس کے ایماء پر اس کے مقرر کردہ قاتلوں کے ہاتھوں سے وہ قتل کیا گیا ہے اور اگر یہ بات جھوٹ نکلے تو ہمیں سر عام