خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد ۸ 748 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء پھانسی دو اور ہم سے یہ کرو اور وہ کرو۔ایک مہینے کے اندر اندر اس مردے کو خدا نے زندہ کر دیا ہے۔پس اگر ان کے اندر ذرا بھی شرافت اور دیانت ہوتی اور عقل سے کام لیتے تو ان کو یہ پتا چلتا که در اصل و ه دشمن زندہ نہیں ہوا بلکہ احمدیت زندہ ہوئی ہے۔خدا نے احمدیت کو اس کی زندگی کا نشان دکھا کر ایک نئی شان سے زندہ کیا ہے ورنہ ہمیشہ کے لئے خلافت احمدیہ پر یہ الزام لگا رہ جاتا۔احمدی لاکھ کہتے کہ ہم جانتے ہیں ہمارے یہ طور طریق نہیں ہیں مگر دشمن یہی کہتا رہتا کہ ایک خلیفہ تمہارا قاتل تھا۔اب دیکھیں خدا تعالیٰ نے اس کو اس لاعلمی کی حالت میں بھی مرنے نہیں دیا۔بلوایا وہاں سے پاکستان میں ان دشمنوں کی آنکھوں کے سامنے دکھایا کہ تم جھوٹے ہو تمہاری لعنتیں تم پر پڑ چکی ہیں اور یہ جو دشمن تم نے سازش میں ساتھ شامل کیا ہوا تھا جس کی موت کا جھوٹا اعلان کر کے تم نے ایک معصوم خص پرقتل کے الزام لگائے ہوئے تھے خدا نے ظاہر کر دیا کہ تم سب لوگ جھوٹے تھے اور وہ بچے تھا۔تو یہ اپنی ذات میں کوئی معمولی نشان تو نہیں۔اگر ہمارا مباہلہ بھی بے اثر جاتا اور ایک پھو کے کارتوس کی طرح چلتا مگر کچھ تماشہ نہ ہوتا کوئی آواز نہیں آتی تو پھر دشمن احمدیت یا د ہر یہ کہہ سکتے تھے کہ دیکھ لو نہ وہ مباہلہ چلا نہ یہ مباہلہ چلا خدا بھی نہیں ہے یونہی گئیں یہ ہیں یا یہ کہ دونوں فریق جھوٹے ہیں۔لیکن وہ مباہلہ تو چلا ہے اور بڑی شان کے ساتھ چلا ہے۔پھر ضیاء الحق کی موت کسی شخص کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی اور ایسی غیر معمولی موت جس میں سرگردانی کے باوجود آج تک کسی کو کوئی نشان نہیں مل سکا کہ یہ کیا واقعہ ہوا ہے۔جس کو ہوائی قلعہ کہتے تھے اس جہاز میں سوار اس کے پر نچے اُڑ گئے اور کم و بیش وہی حالت پیدا ہوئی جیسی خدا نے ایک دفعہ میرے منظوم کلام میں ظاہر فرمائی تھی گوالہام تو نہیں تھا وہ میرے اپنے ہی شعر تھے لیکن بعض دفعہ خدا زبان سے ایسی بات جاری فرما دیتا ہے جس کی سچائی کے اوپر پھر وہ ضامن بن جاتا ہے۔وہ دیکھ لیں وہ نشان تو پورا ہوا اور اس نشان کے ساتھ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت سے مخفی نشانات ہیں جو وقت کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جس طرح اس ایک مردے کی زندگی کے ساتھ دراصل ساری جماعت میں زندگی پڑگئی وہ غم اور فکر دور ہوئے ، وہ تفکرات دور ہوئے ، وہ تو ہمات ختم ہوئے۔بڑی بے چین تھی جماعت، بڑے ان پر تکلیفوں کے سائے پڑے ہوئے تھے کہ ہم جانتے ان ہیں کہ اس نے کوئی ظلم نہیں کیا اور ساری دنیا کی نظر میں اس کو ظالم بنایا جارہا ہے۔ساری جماعت بڑی