خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد ۸ 746 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء والے اور غالب آنے والوں کی علامتیں ہیں۔پس یہ وہ نشان تھا جو در حقیقت جماعت احمدیہ نے مانگا اور یہ نشان جماعت احمدیہ کو ہر جگہ عطا ہوا۔خود کیرالہ میں ہی اس مباہلے کے بعد اسی جگہ تین ایسے معززین جماعت احمد یہ میں داخل ہو چکے ہیں جن کا ان سے پہلے جماعت کی متشدد مخالف جماعتوں سے تعلق تھا اور چونکہ ان کو یہ احساس ہوا کہ اس میں ہماری ذلت ہے اس لئے انہوں نے پورا زور لگایا۔ایک صاحب کو تو اغوا کر کے گھیراؤ کر کے ان کے اوپر علماء کے بے حد دباؤ ڈالے، مناظرے کئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ سارے قائم رہے اور خدا نے ان کو استقامت بخشی اور دشمنوں کے دلوں پر اس کے نتیجے میں ضرور ایک قسم کا عذاب نازل ہوا ہے کیونکہ بار بار ان کی طرف سے ان تینوں کے احمدیت میں شمولیت کے نتیجے میں بے چینی کے اظہار ہوئے لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے جو نسبتا چھوٹے پیمانے کی چیز ہے اور ایک دشمن کہہ سکتا ہے کہ اتنے بڑے علاقے میں تین احمدی ہو جائیں تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔دنیا میں تھوڑی تھوڑی تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں کوئی ادھر چلا جاتا ہے کوئی ادھر چلا جاتا ہے۔لیکن جہاں تک جماعت کی اطلاعوں کا تعلق ہے اس چیز کو مباہلہ کرنے والوں کے دل جانتے ہیں کہ انہوں نے کس شدت سے محسوس کیا ہے لیکن جس نشان کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ اور ہے۔وہ یہ ہے کہ مباہلہ کا اصل مقصد کسی کا سچا یا جھوٹا ثابت کرنا ہوتا ہے اور اس پہلو سے خدا تعالیٰ نے ان کے اپنے ہاتھوں سے ان کے جھوٹا ہونے کے ایسے سامان کر دیئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت کی صداقت صرف و ہیں نہیں بلکہ دنیا کے اور ملکوں میں بھی روشن ہوگئی ہے۔اب دیکھئے کیسی ان کی عقل ماری گئی اور کیسی ان سے جہالت کی بات ہوئی کہ مباہلہ میں ابھی پورے دو ماہ بھی نہیں گزرے تھے کہ انہوں نے اخباروں میں یہ خبریں شائع کر دیں کہ جماعت احمدیہ کیرالہ کے امیر ڈاکٹر منصور احمد صاحب اور ان کے چیف مبلغ مولوی محمد ابو الوفا صاحب مباہلے کے دوسرے روز ہی وفات پاگئے۔اب دیکھیں کیا ضرورت تھی جھک مارنے کی۔انتظار کرتے دیکھتے کیا ہوتا ہے اور دوسرے روز وفات کا اعلان کر رہے ہیں دو مہینے کے بعد اور سعودی عرب میں بھی یہ اعلان ہوا اور پاکستان میں بھی یہ اعلان ہوا اور اخباروں کے علاوہ ایک امروز کا جانتے ہیں آپ مشہور اخبار ہے اس کے 9 جون