خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 70

خطبات طاہر جلد ۸ 70 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء ساتھ موت ہو وہاں یہ محسوس کر لیں کہ یہ کلیہ نا کام اور نا مرادر ہے ہیں اور خدا تعالیٰ کے کاموں کو روک نہیں سکے اور جتنی انہوں نے کوشش کی اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے یعنی اس کے برعکس ان کی تمناؤں کو الٹاتے ہوئے جتنی لعنتیں انہوں نے خدا تعالیٰ کے دین پر ڈالیں اس سے زیادہ شان کے ساتھ وہ دین اُبھرا اور غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو رحمتیں اور برکتیں اور کامیابیاں نصیب فرمائیں۔ان دنوں پاکستان میں خصوصیت کے ساتھ علماء دن رات مکر میں مبتلا ہیں۔یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان کو بڑی سخت تشویش ہے۔بہت سے ایسے معاملات ہیں جو اُن کی توقعات کے برعکس نکلے ہیں۔بہت سے ایسے طاقت کے دائرے ہیں جہاں اُن کی پکڑ کمزور پڑ گئی ہے اور معاملات میں عمل دخل ویسا نہیں رہا جیسا پہلے تھا۔چنانچہ اس کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے وہ سخت بے چین ہیں۔وہ جو پہلے یہ سوچ رہے تھے کہ صدی کے آخر تک جماعت کو نیست و نابود کر دیں گے اب اُن کو اپنے نیست و نابود ہونے کی فکر لاحق ہورہی ہے اور وہ دیکھ رہے ہیں کہ اگر یہ صدی کامیابی کے ساتھ اختتام تک پہنچی اور نئی صدی کا آغاز بلند تر اُمیدوں کے ساتھ ہوا تو یہ اُن کی موت ہے۔اس پہلو سے وہ سخت بے چین ہیں اور گہری تدبیروں اور مکروں میں مبتلا ہیں۔چنانچہ آج بھی (اخبار ) جنگ میں یہ خبر بھی شائع ہوئی (یعنی کل کا جنگ تھا جو رات کو آگیا تھا صبح میں نے دیکھا) کہ پنجاب کی حکومت نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جماعت احمدیہ کو اس صدی کے اختتام کا اور اگلی صدی کے آغاز کا جشن نہیں منانے دیں گے اور یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ربوہ کو بہر حال کسی قیمت پر بھی ان خوشیوں میں شریک نہیں ہونے دیں گے۔چنانچہ با قاعدہ حکومت کی طرف سے جونو ٹیفکیشن جاری کر دی گئی ہے اس پر میرا ذہن قرآن کریم کی اس آیت کی طرف منتقل ہوا کہ إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَاكِيْدُ كَيْدًا فَمَهْلِ الْكَفِرِينَ اَمْهِلْهُورُوَيْدًا ع ( الطارق: ۱۲-۱۸) که یقینا وہ تدبیریں کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن میں بھی تدبیر کر رہا ہوں۔یہاں خدا تعالیٰ نے اکیڈ کہہ کر مومنوں کو اس تدبیر سے الگ کر دیا ہے اور تمام تدبیر کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لی ہے۔اس میں جو پیغامات ہیں خاص طور پر قابل توجہ باتیں ہیں وہ یہ ہیں کہ مومن کو تدبیر سے منع نہیں فرمایا گیا بلکہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے پتا چلتا ہے کہ جہاں تک مومن کے بس میں ہے اُس کو تدبیر اختیار کرنے کا ہی حکم ہے لیکن مومن کی