خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد ۸ 71 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء تدبیریں کام نہیں کیا کرتیں۔آخری فیصلہ خدا کی تدبیر سے ہوا کرتا ہے اور جب خدا کی تدبیر ظاہر ہوتو اُس وقت وہ تنہا ہے جو سارے عظیم الشان انقلابات برپا کرتی ہے اور مومن کو یہ دھوکا نہیں ہونا چاہئے کہ اُس کی تدبیری کوششوں نے یہ نتائج پیدا کئے ہیں۔کافروں کی اور دشمنوں کی تدبیر کو ان کی تدبیر سوجھتی ہے۔اِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا کثرت سے ہیں، بہت زیادہ ہیں اور سارے تدبیروں میں مصروف ہیں۔ان کے مقابل پر یہ نہیں فرمایا کہ میرے بندے بھی تدبیر کر رہے ہیں، میں بھی کر رہا ہوں بلکہ فرمایا اکیدُ گیدا میں تدبیر کر رہا ہوں۔تو جو کوششیں آپ نے کرنی ہیں وہ کریں لیکن جو انقلاب بر پا کرنے والی تدبیر ہے وہ خدا ہی کی تدبیر ہے اور جب خدا کی تدبیر جاری ہوتی ہے تو اُس کے مقابل پر انسان کی ہر تدبیر نا کام ہو جاتی ہے۔اس لئے یہ جو عادت بعض لوگوں کو پڑ گئی ہے کہ سیاسی افق پر اپنے مستقبل کی تحریریں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اس عادت کو ترک کر دیں۔ہمارے مستقبل کی تحریریں روحانی اُفق پر لکھی جاتی ہیں اور ہمارے مستقبل کا فیصلہ آسمان پر ہوتا ہے زمین پر نہیں ہوتا۔اس لئے دعائیں کریں اور دعاؤں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جب خوشخبریاں عطا فرمائے اور جن کو بشاشت عطا کرے وہاں اپنے مستقبل کی تحریریں پڑھنے کی کوشش کریں اور وہی تحریر میں ہیں جو لازماً کچی ثابت ہوں گی ورنہ سیاسی افق پر وہ تحریریں اُبھرتی بھی رہتی ہیں اور مٹتی بھی رہتی ہیں۔تحریریں لکھنے والوں کو بھی وہ تحریریں اپنے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹا دیا کرتی ہیں لیکن وہ تحریر میں جو خدا کی تقدیر لکھ رہی ہے وہ ان مٹ ہوتی ہیں کوئی دنیا کا ہاتھ اُن تحریروں کو مٹانے کے لئے نہ اُن تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہے ، نہ ان کو مٹانے کی طاقت رکھتا ہے۔اس لئے یہاں بھی پھر مضمون دعا ہی کی طرف منتقل ہوتا ہے۔چند دن ہوئے صبح جب میں اُٹھا نماز کے لئے تو میرے منہ پر حضرت مصلح موعودؓ کے یہ شعر جاری تھے جو وہ کافی دیر تک جاری رہے لیکن اُس وقت میں نے یہ محسوس نہیں کیا کہ یہ الہامی کیفیت تو نہیں ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ اشارے ضرور ہیں ان باتوں میں۔وہ شعر یہ تھے کہ پڑھ چکے احرار بس اپنی کتاب زندگی ہو گیا پھٹ کر ہوا اُن کا حباب زندگی