خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 69 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 69

خطبات طاہر جلد ۸ 69 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۹ء دعا کرے اور کام کرنے والے ہمہ وقت کام کے دوران اور بعد میں بھی جہاں تک تو فیق ملتی ہے اپنے لئے دعائیں کرتے رہیں۔ان دعاؤں میں ایک یہ بھی دعا ہمیں شامل کر لینی چاہئے کہ جو لوگ آج زندہ ہیں اور یہ تمنا رکھتے ہیں کہ اگلی صدی کا منہ دیکھنے سے پہلے رخصت نہ ہوں اللہ تعالیٰ ان کی زندگیوں میں برکت دے۔اگر چہ قضا و قدر کا معاملہ جاری وساری رہتا ہے اور انسانی جذبات سے بالا ہے لیکن دعا کے ذریعے قضا و قدر اور جذبات کے درمیان ایسا تعلق قائم ہو جایا کرتا ہے کہ نیک بندوں کی دلی کیفیات کے مطابق تقدیر میں ڈھلنے لگتی ہیں اور یہ وہ ایک غیر معمولی سنت ہے جس کو عام دنیا دار مشاہدہ بھی نہیں کر سکتے بلکہ سوچ بھی نہیں سکتے۔اس لئے یہ تو ضرور ہے کہ کچھ نہ کچھ ایسے خدا کی تقدیر میں بندے ہوں گے جن کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں لیکن اگر ساری جماعت سب کے لئے عمومی طور پر یہ دعا کرے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ بہت سے ایسے ہیں جن کو خدا زیادہ لمبی زندگی عطا فرما دے گا اور سوائے اس کے کہ بعضوں کے لئے تقدیر مبرم ہے جس کو شفاعت کے سوا ٹالا نہیں جاسکتا اور شفاعت کا مضمون آپ جانتے ہیں کہ اذن الہی سے تعلق رکھتا ہے، دعا سے تعلق نہیں رکھتا۔اس لئے دعا کی حد میں جس حد تک بھی اپنے ساتھی بھائیوں کی زندگی کو لمبا کرناممکن ہے یہ دعائیں کریں کہ ان کی زندگیاں بھی لمبی ہوں خواہ بوڑھے ہوں، خواہ کینسر کے مریض ہوں ، خواہ دوسرے عوارض میں مبتلا ہوں اور ان کو اللہ تعالیٰ صحت بھی عطا فرمائے لمبی زندگی عطا فرمائے اور اگلی صدی کی خوشیوں میں باقی جماعت کے ساتھ وہ شریک ہوسکیں۔گزشتہ دنوں الفضل میں مولا نانسیم سیفی صاحب کی جو نظمیں شائع ہوتی رہی ہیں ان میں ایک شعر ایک خاص الگ مزاج کا شعر تھا اور اس پہلو سے مجھے وہ بہت پسند آیا۔انہوں نے دشمنان احمدیت کولمبی زندگی کی دعادی یہ کہتے ہوئے کہ وہ اپنی اوقات تو دیکھ لیں کیا کرنا چاہتے تھے کیا کر سکے؟ جو پہلو اس میں مضمر ہے جو بیان نہیں ہو سکا اس میں دو مصرعوں کا شعر دو مصرعوں کا ہی ہوا کرتا ہے۔حد سے زیادہ مضمون اس میں بند نہیں کئے جاسکتے لیکن وہ مضمر مضمون ہے اور یہ بھی دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو کتنی ترقیات عطا فرماتا ہے۔اس لئے اس دعا میں ان کو بھی شامل کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو غیر معمولی فضل جماعت پر نازل فرمانے ہیں کچھ وہ فضل دکھا کر دشمنوں کو لے کر جائے تا کہ جہاں ہماری موت کامیابی اور خدا تعالیٰ کے شکر کرتے ہوئے ، اس کے احسان گنتے ہوئے ،حمد کے