خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 742 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 742

خطبات طاہر جلد ۸ 742 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء لئے اس کا تو کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا اس لئے ہم جو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہیں ہماری شرطوں کے ساتھ قبول کرو تو پھر نتیجہ ظاہر ہو گا۔چنانچہ جب ان کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی تو اگر چہ بالعموم میں اس قسم کی پیشکش کو رد کرتا رہا ہوں اور یہ موقف اختیار کرتا رہا ہوں کے قرآن کریم کی رُو سے مباہلے میں ہرگز آمنے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے۔تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَابْنَاءَكُمْ ( آل عمران :۱۲) والی آیت میں یہ مضمون خوب کھل گیا ہے کہ نہ صرف آمنے سامنے ہونے کی شرط نہیں بلکہ آمنے سامنے ہونے کا اس وقت امکان بھی کوئی نہیں تھا کیونکہ وہ عیسائیوں کے نمائندگان جو اس وقت وہاں حاضر تھے ان کے اہل وعیال ، ان کے مرد ، ان کی عورتیں تو سب پیچھے اپنے وطن میں رہتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی حاضر نہیں تھا۔اس لئے تعالوا کا معنی سوائے اس کے اور کچھ نہیں جس طرح ہم ہر زبان میں ہر محاورے میں استعمال کرتے ہیں کہ تم بھی اپنوں کو آواز دو کہ وہ تمہارے ساتھ ہوں اور اور ہم بھی اپنوں کو آواز دیتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہوں اور معنوی لحاظ سے وہ ہمارے ساتھ شرکت کریں۔چنانچہ اسی جگہ آگے بڑھ کر قرآن کریم فرماتا ہے قُلْ يَاهْلَ الْكِتب تَعَالَوْا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ اس سے صاف کھل گیا کہ یہاں تعالوا كا معنی جسمانی طور پر حاضر ہونا نہیں کیونکہ اِلى كَلِمَةٍ سَوَاءٌ بَيْنَنَا کے لفظ نے خوب مضمون کھول دیا کہ معنوی شراکت کی ضرورت ہے کسی جگہ کی شراکت نہیں اس کلمے کی طرف آؤ، اس کلمے کی طرف آؤ جو ہم دونوں کے درمیان مشترک ہے۔تو تَعَالَوْا کا چونکہ یہ مفہوم خوب اچھی طرح واضح ہے اس لئے میں نے اصرار کیا اور ہمیشہ کرتا رہا کہ یہی طریق درست ہے اور دوسرے آج کل کے زمانے میں بھی باوجود اس کے کہ سفر کی بہت سی سہولتیں ہیں یہ ناممکن ہے کہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے معاندین کے پاس میں جگہ جگہ دوڑا پھروں اور ایک ایک کے سامنے اپنے بیوی بچے لے جا کر ان کے بیوی بچے منگواؤں اور پھر اس طرح مباہلہ ہو ( ویسے ہی ایک لغوسی شکل بنتی ہے ) لیکن چونکہ وہاں علماء نے جماعت پر بہت زور دیا اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ جماعت بھاگ رہی ہے چنانچہ میں نے ان کو اجازت دے دی۔جب مباہلہ کی اجازت دی تو انہوں نے اس تحریر پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جو جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع ہوئی تھی اور باوجود اصرار کے ان الزامات پر دستخط نہیں کئے جو بڑی