خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 743
خطبات طاہر جلد ۸ 743 خطبہ جمعہ ۷ ارنومبر ۱۹۸۹ء وضاحت کے ساتھ ہم نے شائع کئے تھے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں جو تم لگاتے ہو تو مؤکد بعذاب قسم کھا کر خدا کے حضور حاضر ہو اور مباہلہ کے چیلنج کو قبول کرو۔میں نے یہاں تک بھی ان کو سہولت دی تھی کہ اگر تمہارے نزدیک سارے الزام سچے نہیں ہیں تو جتنے سچے ہیں ان پر نشان لگا دو اگر ایک الزام کو بھی سچا سمجھتے ہو اس پر بھی نشان لگا دو۔تو پہلی تو ان کی شکست اس بات سے ظاہر ہوئی کہ انہوں نے اس تحریر میں سے ایک الزام پر بھی تصدیق کرنے کی جرات نہ کی اور ایک الزام کو بھی درست قرار دیتے ہوئے اس کے اوپر مباہلہ کرنے کی جرات نہ کی۔تو وہاں جو اہل بصیرت ہیں ان پر یہ بات کھل جانی چاہئے تھی کہ یہ علماء جو ہر روز انہی باتوں پر جماعت کے خلاف گند بکتے ہیں اگر یہ اپنی بات میں بچے ہوتے تو مباہلے کے وقت ان الزامات کو مباہلے میں شامل کرتے لیکن شامل نہ کیا بلکہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب پر مباہلہ کیا یعنی جماعت احمد یہ آپ کی تصدیق کرے اور وہ تکذیب کریں۔وہ الفاظ جو مباہلے کے ہیں وہ میں ابھی آپ کو پڑھ کر سناؤں گا کیونکہ مباہلے کی مدت ختم ہونے میں تھوڑا وقت رہ گیا ہے اور ۲۸ نومبر کو ان کی آپس کی مقرر کردہ مدت ختم ہو رہی ہے لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو وہ الفاظ پڑھ کر سناؤں اس خط کے مضمون سے مزید کچھ مطلع کرنا چاہتا ہوں۔اس خط میں کچھ پریشانی کا اظہار تھا اور وہ اس طرح کہ انہوں نے لکھا ہے کہ یہاں تین گروہوں میں لوگ بٹ چکے ہیں۔جوں جوں وقت قریب آرہا ہے چہ مگوئیاں ہورہی ہیں اور چونکہ یہ مباہلہ بہت تشہیر پا گیا تھا اخبارات وغیرہ میں ریڈیو میں کثرت کے ساتھ چرچے ہوئے اور سارے صوبے میں یہ بات شہرت پکڑ گئی کہ جماعت احمدیہ کا اس کے مخالفین سے مباہلہ ہوا ہے۔تو انہوں نے لکھا ہے کہ تین قسم کے گروہ ہیں۔ایک وہ گروہ جوان علماء کا بھی دشمن ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اس باہلے کے نتیجے میں کچھ بھی نہ ہوا تو دونوں ہی جھوٹے۔ایک وہ گروہ ہے جو ان علماء کا پیروکار ہے۔پہلے ان کی شیخیاں اور تھیں اب یہ کہنے لگ گئے ہیں کہ اگر ہمیں کچھ نہ ہوا تو جماعت جھوٹی اور ایک تیسرا گروہ ہے جو خدا کے منکرین کا ہے کیونکہ کیرالہ میں Communism بہت ہیں اور وہاں دہریت بھی بہت ہے۔تو دہریے کہتے ہیں کہ اگر مباہلے کے نتیجے میں کچھ ظاہر نہ ہوا تو خدا ہی نہیں ہے۔تو اب وہ کہتے ہیں کہ ان تینوں گروہوں کا کس طرح منہ بند کریں اور کیا بات ان کے سامنے پیش کریں