خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 724 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 724

خطبات طاہر جلد ۸ 724 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء وَجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُكْرَمِيْنَ اور مجھے معزز لوگوں میں شمار فرما دیا۔اگر اس کی اجازت نہ ملے تو پھر یہ شعر لکھا جائے۔ایک عالم مر گیا ہے تیرے پانی کے بغیر پھیر دے اے میرے مولا اس طرف دریا کی دھار (در نمین صفحه: ۱۲۸) اگر اس کی اجازت بھی نہ ملے تو پھر بابا طاہر اصفہانی کی یہ رباعی لکھی جائے: یا رب! ز گناه زشت خود منفعلم و از فعل وئے بخود فیلم بد فیض بدلم ز عالم غیب رساں تا محو شود خیال باطل ز دلم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے رب ! میں اپنے گندے گناہوں کے بارے میں خود بہت شرمندہ ہوں اور اپنے بدخو فعل سے سخت خجالت محسوس کر رہا ہوں۔فیض بدلم ز عالم غیب رساں“۔عالم غیب سے میرے دل کو ایک فیض پہنچا دے۔” تا محو شود خیال باطل ز دلم تا که خیال باطل میرے دل سے ہمیشہ کے لئے محو ہو جائے۔جماعت کو یعنی ربوہ کے نظام جماعت کو میری تاکید ہے کہ اگر موجودہ زمانے کے بدخو علماء کی وجہ سے جو از خود خدا بنے بیٹھے ہیں جماعت کو یہ اجازت نہ ہو کہ احمدیوں کے کتبوں پر قرآن کریم کی آیات کندہ کی جائیں تو جب تک اللہ تعالیٰ ان حالات کو تبدیلی نہیں فرماتا اس وقت تک یہ آیت لکھنے کی بجائے اس کی جگہ چھوڑ دی جائے اور جب بھی خدا زمانے کے حالات تبدیل فرمائے پھر اس آیت کو کندہ کر دیا جائے اور باقی عبارت من و عن اسی طرح درج کر دی جائے۔البتہ شروع میں مختصر ملک صاحب کا تعارف جیسا کہ دستور ہے وہ انجمن کی طرف سے تجویز ہوکر منظوری کے لئے مجھے بھجوا دیا جائے۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور نے فرمایا: آج اور آج کے بعد جب تک دن چھوٹے ہیں جمعہ کی نماز کے بعد عصر کی نماز بھی ساتھ جمع ہوا کرے گی کیونکہ خطبے کی وجہ سے اتنا وقت ہو جاتا ہے کہ نماز پڑھتے پڑھتے عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے اس لئے جب تک یہ مجبوری در پیش ہے اس وقت تک نماز جمعہ کے ساتھ عصر کی نماز جمع ہوا کرے گی۔