خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد ۸ 723 خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۸۹ء چونکہ ایسے متبحر علماء دنیا میں کم کم پیدا ہوتے ہیں اس لئے ان کے خلا کو بھرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ کچھ عرصے تک جماعت کو یہ خلاضرور محسوس ہوگا۔اس لئے اس عرصے میں ہماری نوجوان نسلوں کو اپنی علمی کمزوریاں دور کرنی چاہئیں، اپنے اندورنی خلا بھرنے چاہئیں تا کہ جماعت کا یہ خلا ان کے وجود سے بھر سکے۔اس سلسلے میں جہاں ان کے لئے دعا کی تحریک کرتا ہوں ان کی اولاد کے لئے بھی دعا کی تحریک کرتا ہوں اور سلسلے کے تمام علماء کے لئے بھی دعا کی تحریک کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان کو صحیح معنوں میں علم اور علم کا عرفان نصیب کرے اور جماعت کو کبھی بھی دنیا میں علماء کی کمی محسوس نہ ہو۔ان کی نماز جنازہ غائب آج میں جماعت انگلستان کے مخلص دوست عبدالرشید صاحب کی نماز جنازہ حاضر کے ساتھ پڑھا چکا ہوں اس لئے آخر پر صرف یہی ایک درخواست ہے کہ دوست ملک صاحب اور ان کی اولا د اور سلسلے کے بزرگوں کو ہمیشہ دعاؤں میں یادر کھتے رہیں۔ایک چیز جس کا ذکر کرنا تھا میں بھولنے لگا تھا میری اب نظر پڑ گئی وہ یہ ہے کہ ملک صاحب مرحوم نے اپنے وصال سے تقریباً چودہ پندرہ سال پہلے ایک بند تحریر ہادی علی صاحب کے سپرد کی۔انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ یہ عیدالاضحیہ کا دن تھا اور مجھے کہا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میرے کتبہ پر یہ تحریر ہولیکن یہ لفافہ بند ہے تم نے نہیں پڑھنا۔جب میر ا وقت آئے تو اس وقت کے خلیفہ کو یہ پیش کر دینا۔آگے ان کی مرضی ہے وہ چاہیں تو اسے قبول کریں چاہے تو نہ کریں لیکن میری تمنا ان تک پہنچ جانی چاہئے۔وہ تحریر یہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم اپنے اعمال کے لحاظ سے اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ بہشتی مقبرہ میں دفن کیا جاؤں لیکن مولیٰ کریم کے فضلوں سے نا امید بھی نہیں ہوں کیونکہ میری ساری زندگی اس کے فضلوں کے سہارے ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔بہر حال اگر اس کا یہ فضل ہو کہ بہشتی مقبرہ میں جگہ ملے تو میری لوح مزار پر مندرجہ ذیل آیت لکھی جائے۔قَالَ لَيْتَ قَوْمِي يَعْلَمُوْنَ بِمَا غَفَرَ لِي رَبِّي وَجَعَلَنِى مِنَ الْمُكْرَمِينَ (لیس: ۲۷۔۲۸) جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے کاش ! میری قوم کو معلوم ہو سکتا یا معلوم ہو جائے بما غفر لی رب کہ خدا نے مجھے بخش دیا ہے اور