خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 697
خطبات طاہر جلد ۸ 697 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء تعداد یہ سال جو گزرا ہے اس میں اٹھتر ہزار (۷۸،۰۰۰) ہو چکی تھی اور باقی ساری دنیا میں تحریک جدید میں حصہ لینے والوں کی تعداد اٹھتر ہزار (۷۸،۰۰۰) ابھی تک نہیں ہوئی۔اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ جو مشکلات اور ابتلاؤں کے دور ہیں یہ پاکستان میں جماعت احمدیہ کی کمر توڑنے کی بچائے اسے اور مضبوط کر گئے ہیں اور غیر معمولی طور پر خدا کی خاطر قربانی کرنے کا ر جذ بہ جماعت میں پیدا ہو چکا ہے۔ایک کینیڈا کے مشہور مستشرق پاکستان تشریف لے گئے تھے سال ڈیڑھ سال پہلے اور اب انہوں نے ایک کتاب شائع کی ہے اسی موضوع پر کتاب لکھی ہے جس کا عنوان یہ ہے کہ Coercion and Conscience غالبا اس کا عنوان ہے کہ انسانی ضمیر اور جبر وتشد داور یہ کتاب انہوں نے جماعت احمدیہ کے متعلق لکھی ہے کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے ان کے ساتھ اور ان کا کیا رد عمل ہے۔اس کتاب میں انہوں نے یہ دونوں باتیں بیان کی ہیں جو میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں، اپنے رنگ میں انہوں نے پیش کی ہیں۔ایک یہ کہ قربانی کے دور میں جماعت احمد یہ کسی پہلو سے بھی میدان سے پیچھے نہیں ہٹی اور ان کے اندر نئے عزم پیدا ہوتے چلے جارہے ہیں اور دوسرا یہ کہ قربانی کرنے والوں کو ایسا مزہ آتا ہے قربانی کا کہ میں نے جیلوں میں جا کر بڑے بڑے بوڑھوں کے ساتھ بھی بات چیت کی، جوانوں سے بھی بات کی اور میں یہ دیکھ کے حیران ہوتا تھا کہ ان کو لذت کس بات کی آرہی ہے۔وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ خدا کی خاطر قربانی کا مزہ ہے لیکن جو کچھ انہوں نے سمجھا اس کے باوجود یہ اس کو پوری طرح بیان نہیں کر سکے اپنی کتاب میں۔تعجب کا بیان کر دیا ہے لیکن وہ کیا چیز تھی جس کی وہ لذت محسوس کرتے تھے جس کو وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکے اور دوسرا انہوں نے یہ لکھا ہے کہ قربانی کے ہر میدان میں جماعت آگے بڑھ رہی ہے اور دشمن اس پہلو سے جماعت کو شکست دینے میں بالکل نا کام اور نامراد رہا ہے۔کوئی ایک پہلو بھی نہیں ہے جس میں جماعت احمدیہ نے اپنا قدم پیچھے ہٹالیا ہو۔پس اس پہلو سے یہ پاکستان میں جو جماعت احمدیہ کی قربانیوں کی عظیم الشان تاریخ بن رہی ہے یہ ایک بہت بڑی سعادت ہے اور اسی سعادت کا یہ ایک پھل ہے جو بیرونی دنیا میں بھی ہم کثرت کے ساتھ خدا کے فضلوں کی بارش نازل ہوتے دیکھتے ہیں۔