خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 694 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 694

خطبات طاہر جلد ۸ 694 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء بعض دفعہ فرشتوں کی طرف سے لوگوں کی عقلوں پر پردے پڑ جاتے ہیں وہ پوری طرح تحریر بھی نہیں پڑھ سکتے کہ کیا لکھا ہوا ہے۔مگر جو کچھ ہوا یہ تقدیر کے نتیجے میں ہوا ہے اور کسی اتفاقی غلطی کی طرف اس کو منسوب نہیں کیا جا سکتا اور اس نصف اجتماع میں بھی جماعت کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے حوصلے ہوئے اور بہت جو اجتماع کے پیغام ملے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ خدام بہت خوش گئے ہیں اور بڑی مدت کے بعد ان کی یہ آرزو پوری ہوئی کہ اجتماع کی خاطر ربوہ مرکز سلسلہ میں جمع ہوسکیں۔جب مخالفتوں کا آغاز ہوا تھا پاکستان میں تو ۱۹۸۴ ء ہی میں میں نے ایک خطبہ میں ذکر کیا تھا کہ یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آر ہے اور دن بدن فتنوں میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور کوشش یہ ہے کہ جماعت کو ہر لحاظ سے نیست و نابود کر دیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو خوشخبریاں مل رہی ہیں اور قرآن کریم کے مطالعہ سے جو ظا ہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کثرت کے ساتھ جماعت پر اپنے فضلوں کی بارشیں برسائے گا اور ساتھ میں نے اس ضمن میں یہ مثال دی تھی کہ کبھی چھتریوں سے بھی بارشوں کے پانی رو کے جاسکتے ہیں، کبھی چھتوں کے ذریعے بھی بارشوں کے اثرات سے زمین کو محفوظ کیا جا سکتا ہے۔کتنے سائبان تان لو گے۔جب خدا کے فضل کی بارش برسے گی تو لازماً بر سے گی اور دنیا کی کوئی طاقت اس کو روک نہیں سکتی۔چنانچہ وہاں انہوں نے اپنی طرف سے بہت سائبان تانے۔سارے ملک میں احمدیوں کو اس فضلوں کی بارش سے محروم کرنے کی کوشش کی لیکن جماعت گواہ ہے کہ یہ فضل کئی کئی طریق سے نازل ہوتے رہے اور ہوتے چلے جا رہے ہیں اور اتنا غیر معمولی خدا تعالیٰ نے اپنے فضل و رحم کے ساتھ جماعت کے اخلاص کو بڑھایا۔اس کے ایمان کو بڑھایا، اس کے نیک اعمال کی طاقت کو بڑھایا، اس کی وفا کو ثبات قدم عطا فر مایا اور نئے حوصلے دئے اور ایک ایسی عظیم مذہب کی تاریخ قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائی جس کی قربانیاں ہمیشہ قیامت تک کے لئے قربانیوں کے آسمان پر روشن ستاروں کی طرح چمکتی رہیں گی۔ایک نیا قربانیوں کا آسمان تعمیر کیا گیا ہے اس دور میں اگر آپ غور کریں اور پرانے مذاہب کی تاریخ سے موازنہ کر کے دیکھیں تو آپ حیران ہو جا ئیں گے کہ اس تھوڑے سے عرصے میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو اپنے فضل کے ساتھ کتنی عظیم الشان تاریخی قربانیوں کی تو فیق عطا فرمائی ہے۔کتنے وسیع پیمانے پر قربانیوں کی توفیق عطا فرمائی ہے اور کتنے حو صلے اور صبر اور ضبط اور