خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 693
خطبات طاہر جلد ۸ 693 خطبه جمعه ۲۷/اکتوبر ۱۹۸۹ء میں اس تھوڑی سی اذیت کی جو بالکل معمولی ہے توفیق عطا ہوئی۔اس کے بعد جب دوسرے دن بھی جماعت احمدیہ نے اجتماع بند کرنے سے انکار کر دیا تو ایک وفداے سی کے پاس پہنچا کہ پولیس اس طرح دباؤ کر رہی ہے آپ یہ ظلم کر رہے ہیں آپ آخر کیا چاہتے ہیں۔جب تک تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا ہم ہرگز اس اجتماع کو منسوخ نہیں کریں گے۔اس نے کہا ہم نے آپ کو تحریری اجازت ہی نہیں دی تھی۔ہم نے تو صرف یہ اجازت دے تھی کہ آپ کھیلیں کریں۔آپ نے ہم سے دھوکا کیا ہے اور کھیلوں کے نام پر اجازت لے کے آپ نے تربیتی اجتماع بھی شروع کر دیا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ کھیلوں کے لئے آپ نے مسجد اقصیٰ میں اجازت دینی تھی۔وہ کون سی کھیلیں تھی اور جسمانی مقابلے تھے اور دوڑیں تھیں جو مسجد میں منعقد کی جاتیں اس لئے آپ عقل سے کام لیں اور ساتھ انہوں نے اس اجازت نامہ کی فوٹوسٹیٹ کا پی دکھائی کہ یہ اجازت نامہ دیکھیں ہماری درخواست یہ تھی کہ ہم تعلیمی، تربیتی اجتماع کرنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ کھیلوں کا بھی انعقاد ہو گا اور ہر قسم کے ورزشی مقابلے بھی ہوں گے۔ان سب کے اوپر ڈپٹی کمشنر نے تحریری اجازت دی ہوئی ہے۔اس کے بعد آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا اچھا مجھے دکھاؤ اور دیکھ کر اسی کے اوپر آر ڈرلکھ دیا کہ میں منسوخ کرتا ہوں۔بہر حال نصف تک وہ اجتماع ہو چکا تھا۔تو میں نے تو کہا تھا کہ ایک قطرہ پہلا ہے بارش کا۔بظاہر تو یہ نصف قطرہ لگتا ہے لیکن دراصل یہ قطرہ پنجاب حکومت کی طرف سے آیا ہی نہیں۔اس بیابان میں تو اتنے بھی بخارات نہیں ہیں کہ سارے مل کر آسمان پر جا کر ایک قطرہ بن کے برس سکیں۔پس وہ تھا تو قطرہ ہی مگر خدا کے فضل کا قطرہ تھا اور اب بھی میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا کے فضل کا یہ قطرہ بارش ضرور بنے گا اور کوئی دنیا کی طاقت اس بارش کی راہ میں روک نہیں بن سکتی کیونکہ اس سے پہلی رات مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی تھی جو میں نے آپ کو بتائی تھی کہ اگر تم دعاؤں میں ثابت قدم رہو اور چمٹے رہو دعاؤں کے ساتھ تو خدا تعالیٰ آج بھی قدرت نمائی کر سکتا ہے اور وہ ضرور کرے گا۔اس لئے ہرگز کسی پہلو سے مایوسی کی بات نہیں ہے۔اس لئے جہاں تک قطرے اور فضل کے مضمون کا تعلق ہے وہ اپنی جگہ قائم ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی سامان ہوئے ہیں۔اگر کوئی دھوکا ہوا ہے ان کو ہماری درخواست سمجھنے میں تو یہ بھی