خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 64 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 64

خطبات طاہر جلد ۸ 64 خطبہ جمعہ ۲۷/جنوری ۱۹۸۹ء تو یہ ہے کہ گلے سے کام نہ اتر نے دے جب تک تسلی نہ ہو جائے کہ یہ کام صحیح طریق پر جاری ہو چکا ہے۔اس لئے ان سب امور میں جہاں جہاں خلا ہے اُن پر نظر ڈالیں، جہاں جہاں خلا مجھے نظر آتا ہے اُسی وقت اُن کو چٹھی لکھ کر متنبہ کر دیا جاتا ہے لیکن ساری دنیا کے پھیلے ہوئے ممالک میں تفصیل سے انسانی نظر نہیں پہنچ سکتی لیکن جو قریب ہیں اُن کی نظر زیادہ آسانی سے تفاصیل تک پہنچ سکتی ہے۔اس لئے امراء اور صدران اور دوسرے منتظمین جو قریب کی دنیا میں اپنے خلاد یکھتے ہیں اُن کو بھرنے کی بھی کوشش کریں اور اپنے اعلیٰ افسران کو بھی اُن سے مطلع کریں اور مجھے بھی مطلع کرنا شروع کر دیں کہ ہم نے اس اس پہلو سے یہ انتظامی خلا دیکھا ہے تا کہ میں بھی اُن کو مزید متوجہ کروں۔جہاں تک اصولی ہدایتوں کا تعلق ہے یہ مثالیں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں تفصیلی کام کا تو میں نے بیان کیا تھا کہ وقت ہی نہیں ہے اس کی روشنی میں پھر آپ اپنے کام کو بڑھالیں اور پھیلا لیں اور ہر شعبہ میں اسی طریق پر طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل کے سہارے دعائیں مانگتے ہوئے اپنے خلاؤں کو بھرنے کی کوشش کریں اور خوب تیار ہو جائیں۔جس دن ہم اگلی صدی میں داخل ہوں اُس دن سے پہلے پہلے انتظامی لحاظ سے ہم پوری طرح تیار ہو چکے ہوں۔پھر سرچھ ر پھینک کر آپ کام میں تیز رفتاری کے ساتھ آگے بڑھنا شروع کردیں۔اس ضمن میں چندوں کے بقایوں کے متعلق بھی میں یاد دہانی کرواتا ہوں۔صد سالہ جو بلی کے چندوں کی وصولی کی تاریخ میں بڑھاتا رہا تا کہ جو کمزور ہیں اُن کو بھی موقع ملتا رہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے ۳۱ دسمبر ۱۹۸۸ء مقرر کی تھی کہ اس وقت تک آپ سب بقایا ادا کر دیں لیکن میں جانتا ہوں بعض لوگ کوشش کے باوجود بھی اس وقت تک بقایا ادا نہیں کر سکے۔اس لئے بعضوں نے مجھے لکھنا شروع کیا ہے کہ ہمیں محرومی کا شدید احساس پیدا ہو رہا ہے اس لئے ہمیں ایک سال کی اور مہلت دے دیں۔تو یہ کوئی ایسی مہلتیں تو نہیں ہیں جو آخری حرف بن چکی ہوں کیونکہ نیکی کے کام میں جب وقت مقرر کئے جاتے ہیں تو صرف یہ مراد ہوتی ہے کہ تحریک ہو، تحریک ہو۔جو سبقت لے جانے والے ہیں اُن کی توجہ ہو اور وہ سبقت لے جانے کی کوشش کریں۔جو پیچھے رہنے والے ہیں اُن کو ساتھ ملنے کا موقع دیا جاتا ہے۔تو اب پھر میں ایک سال مزید اضافہ کرتا ہوں کہ ۳۱؍ دسمبر ۱۹۸۹ء تک بھی جو دوست ادا کر دیں گے اُن کا جہاں تک میرا تعلق ہے میں یہی سمجھوں گا کہ اُن کا چندہ وقت کے اندر ہی ادا ہو گیا