خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 65
خطبات طاہر جلد ۸ 59 65 خطبہ جمعہ ۲۷/جنوری ۱۹۸۹ء ہے۔باقی جو بقایارہ جائیں گے وہ اللہ تعالیٰ معاف کرے اور پھر ہماری غفلتوں کی پردہ پوشی کرے۔جن کے بقائے رہ جائیں گے اگر چہ مدت گزر چکی ہوگی لیکن اُن کو بعد میں بھی ادا کرنے چاہئیں۔یہ میں اصولی بات سمجھانا چاہتا ہوں۔نماز کا ایک وقت مقرر ہے کتاب موقوت ہے لیکن جب وقت کے اندر نہ پڑھی جائے تو قضا کا حکم ہے۔اسی طرح جو خدا سے وعدے کئے جاتے ہیں وہ بھی فرض کی طرح شمار ہونے چاہئیں اور قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ ان وعدوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔اس لئے جن لوگوں نے گھبراہٹ کے خط لکھے ہیں میں اُن کے ساتھ پوری طرح متفق بھی ہوں اور اُن کے لئے پریشان بھی ہوں۔جن کو احساس اور شعور ہے وہ جانتے ہیں کہ ہم نے وعدہ خدا سے کیا تھا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ہمارے حالات نے اجازت دی ہو یا نہ دی ہو یہ وعدے پورا کرنے سے محرومی ایک ایسا داغ ہے جس کی تکلیف ہونی چاہئے لیکن اگر وقت کے اندر نہ پورا ہو سکے اور مجبوری ہو تو گناہ تو نہیں ہو گا لیکن اس خلا کو اس طرح پر کرنا چاہئے جس طرح چھٹی ہوئی نمازوں کی قضا کی جاتی ہے۔تو بعد میں بھی دیں لیکن اپنے طور پر اپنی ذمہ داری سے جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے یہ چندے کا وقت ختم ہو چکا ہوگا ممکن ہے بعض بقائے ایسے رہ جائیں بلوں کی ادائیگی کے جن میں یہ استعمال بھی ہو جائے لیکن نہ بھی ہو تو جہاں تک آپ کی ذات کا تعلق ہے آپ کا وعدہ خدا سے پورا ہو جائے گا اور آپ کو اس سے اطمینان قلب نصیب ہوگا۔آخری بار پھر میں یہ عرض کروں گا کہ بہت سی ہمارے بد عادات کی گھڑیاں ہیں جو ہم پر سوار ہیں۔ہر سال کے آغاز میں انسان وعدے کیا کرتا ہے اپنے نفس سے، بعض دفعہ اپنے خدا سے، بعض دفعہ اپنے دوستوں سے کہ یہ یہ کمزوریاں میں چھوڑوں گا۔اس سال کے آغاز پر مجھے خیال آیا کہ یہ تحریک کروں کہ بعض بدیاں چھوڑ دیں۔ویسے تو ہر بدی چھوڑنی چاہیئے لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ اس کو اگلی صدی کے تعلق میں بیان کروں گا جیسا کہ میں پہلے بھی کرتا آرہا ہوں۔اگلی صدی سے پہلے جس طرح آپ بچوں سے وعدے لیں گے اُس طرح اپنے نفس سے بھی وعدے لیں اور اس کے لئے دعا شروع کر دیں۔بعض عادتیں ترک کرنا آسان نہیں ہوا کرتا۔بڑی ہمت چاہئے اور بعض عادتیں ایسی ہیں جو آپ ایک دفعہ چھوڑ بھی دیں تو پھر دوبارہ آجایا کرتی ہیں اس لئے بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے۔گناہوں کی جو تمثیل بائبل میں پیش کی گئی ہے اور شیطان کو گناہ مجسم کے طور پر دکھایا گیا