خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 63 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 63

خطبات طاہر جلد ۸ 63 خطبہ جمعہ ۲۷ / جنوری ۱۹۸۹ء اس قسم کی چٹھیوں کا ہم پر کوئی اثر نہیں پڑتا نہ پڑنا چاہئے عقلا کیونکہ وہ چٹھی دیکھتے ہی پتا چل جاتا ہے کہ انہوں نے کیا حرکت کی ہے۔چٹھی اس قسم کی چاہتے کہ ہم نے جائزہ لیا ہے اتنا بڑا علاقہ ہے،اس کی تقسیم کی جماعت میں اتنی استطاعت موجود ہے۔دتی تقسیم کے لئے کتنے کارکنان مہیا ہوں گے اور وہ اتنی دیر میں اتنے گھروں تک یہ کتاب پہنچا سکتے ہیں اور ڈاک کے ذریعے تقسیم کا انتظام اتنا خرچ چاہتا ہے، اتنا خرچ پوسٹنگ پر ہوگا اور اتنے احمدی دوست تیار ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اتنی اتنی کتب اس عرصے میں پوسٹ کر دیں گے۔اس طرح کام ہوگا تو پھر تسلی ہوگی پھر ہمیں سمجھ آئے گی کہ ہاں واقعہ ہی آپ نے معنی خیز کام کیا ہے ورنہ خالی ایسے جواب تو کئی آچکے ہیں کہ جی آر ہمیں دس ہزار بھیج دیں، ہیں ہزار بھیج دیں۔بالکل بے معنی بات ہے کیوں بھیج دیں؟ جب تک یہ یقین نہ ہو کہ آپ اُس کو تقسیم کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور سارا انتظام مکمل ہے اُس وقت تک آپ کا اخلاقی حق نہیں ہے کہ جواب دے کر اپنی ذمہ داری کوٹلانے کی کوشش کریں۔اس سلسلے میں بعض جگہ بڑا اچھا کام شروع ہو گیا ہے لیکن وہ بھی اُس وقت شروع ہوا جب میں نے نمائندہ بھیجا اور اُن کو سمجھایا مثلاً منیر الدین صاحب شمس نے کوئی دو تین ماہ پہلے ہندوستان کا دورہ کیا۔تمام علاقوں میں وہاں خود پہنچے منتظمین کو بلایا، ان کو سمجھایا پھر وہاں انتظامات مکمل کئے تقسیم کار مکمل کی۔وہ ہندوستان جہاں اس سے پہلے مہینوں جواب نہیں آیا کرتے تھے وہاں اب ایسا مستعد انتظام جاری ہو گیا ہے کہ جس طرح شعاعیں پڑ کر منعکس ہوتی ہیں واپس اس طرح خط ملتے ہی ان جماعتوں کی طرف سے جواب آرہے ہیں اور خوشیوں کی خبریں مل رہی ہیں کہ خدا کے فضل سے اب ہم انتظام مکمل کر کے تیار بیٹھے ہیں اور یہ یہ کام ہو گیا ہے۔تو اس لئے سمجھانے کی بڑی ضرورت ہے۔بعض علاقوں میں تو ہم نمائندے مرکزی بھجوا سکے ہیں لیکن بعض علاقوں میں نہیں بھجوا سکے لیکن وہاں یہ طریق کارطے ہوا تھا کہ جن ممالک کے سپر د بعض دوسرے چھوٹے ممالک ہیں وہ خود اپنے نمائندے وہاں بھجوا کر اُن کو سمجھا ئیں گے۔اس ضمن میں مجھے ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں ملی یعنی تسلی بخش رپورٹ نہیں ملی۔مثلاً انگلستان ہے اگر انگلستان کے سپرد بعض چھوٹے ممالک تھے تو ان کا فرض تھا کہ وہاں اپنے نمائندے بھیجیں۔وہ نہ صرف سمجھا ئیں بلکہ اپنے سامنے کچھ نمونے تیار کروا کے آئیں۔اگر تسلی ہو کہ بالغ نظری سے کام ہو رہا ہے۔مومن کی شان یہ تو نہیں کہ گلے سے کام اُتارے۔مومن کی شان