خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 62 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 62

خطبات طاہر جلد ۸ 62 خطبہ جمعہ ۲۷ / جنوری ۱۹۸۹ء خرچ نہ ہواُسی سے پھر مزید قرآن مجید پھر مزید شائع ہوتے چلے جائیں گے۔اگر مزید زبانوں کے لئے اس عرصے میں مزید خاندان یا مزید جماعتیں تیار نہ ہوئیں تو پھر اسی رقم کو بعض مزید زبانوں کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔گو میں اُمید رکھتا ہوں اتنی رقم ضرور انشاء اللہ بچنی شروع ہو جائے گی۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت ہی عظیم الشان کام ہو چکا ہے۔اس کام سے اس کی شایان شان عظیم الشان نتائج حاصل کرنا یہ جماعت کا کام ہے اس کے لئے ذہنی طور پر اور عملی طور پر تیار ر ہیں۔ترسیل واشاعت کے سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ جو اقتباسات قرآن کریم سے یا احادیث سے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب سے لے کر شائع کئے جارہے ہیں اُن کا اکثر حصہ ہدیہ پیش ہوگا اور جن زبانوں میں وہ اقتباسات شائع کئے جار ہے ہیں وہ بعض ایسی ہیں جو مختلف ممالک میں بولی جاتی ہیں اس لئے جس جس ملک میں اُس زبان میں جتنے جتنے اقتباسات کی ضرورت ہے وہ تو طے کر لیں۔کئی دفعہ لکھا گیا ہے لیکن بعض ممالک نے مستعدی سے جواب دیا لیکن بعض ایسے ممالک ہیں، بعض نہیں بلکہ بہت سے ہیں جنہوں نے آج تک یہ تکلیف بھی نہیں کی کہ اپنی ضرورت کو معین کریں اور عجیب بات ہے کہ اُن میں بڑے بڑے مستعد بھی ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ۔بڑی مخلص جماعتیں بھی ہیں جہاں سے ہم نے یہ سستی دیکھی ہے حالانکہ باقی کاموں میں وہ مستعد ہیں۔تو جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا کہ بعض انسان کے شعبے انسانی فطرت جو ہے بڑی وسیع چیز ہے اُس کے بعض شعبوں پر روشنی ہوتی ہے، بعض شعبوں پر سایہ ہوتا ہے۔بعض جگہ سے جھوٹ ختم ہو گیا ہے ، بعض جگہ جھوٹ جاری ہے۔تو بستیوں کا بھی یہی حال ہوا کرتا ہے بعض لوگ بعض زندگی کے شعبوں میں مستعد ہو چکے ہوتے ہیں، بعض دوسروں میں سُست ہوتے ہیں تو اس لئے ان پر اس طرح کا حرف نہیں کہ گویا اُنہوں نے بالکل عدم اطاعت کی ہے یا تعاون نہیں کیا لیکن میں متوجہ ضرور کرنا چاہتا ہوں۔اتنا اہم کام ہے اس سے غفلت اچھی نہیں ہے۔آپ جلد از جلد تعین کریں کہ آپ کو کتنی ضرورت ہے۔ہم نے خود آپ کی ضرورت کو انداز معین کیا ہے اس لئے ہم آپ کے اب جواب کا انتظار نہیں کریں گے۔آپ کو ہم ضرور کتا ہیں بھیجیں گے لیکن ہوسکتا ہے وہ آپ کی ضرورت سے کم ہوں اور یہ ضرورت معین کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ پہلے اس کی تقسیم کا انتظام کریں۔یہ جواب نہیں چاہئے کہ امیر کو چٹھی ملتی ہے وہ اُسی وقت لکھ کر بھیج دے کہ جی ہمیں پانچ ہزار بھیج دیں۔