خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 666

خطبات طاہر جلد ۸ 666 خطبه جمعه ۶ را کتوبر ۱۹۸۹ء مگر پوری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔نیکی اور شیطان سے ایک قسم کا جنگ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ کبھی یہ غالب ہوتا ہے اور کبھی مغلوب ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ وہ حالت آ جاتی ہے کہ یہ مطمئنہ کے رنگ میں آجاتا ہے پھر گناہوں سے نری نفرت ہی نہیں ہوتی بلکہ گناہ کی لڑائی میں یہ فتح پالیتا ہے اور ان سے بچتا ہے اور نیکیاں اس سے بلا تکلف صادر ہونے لگتی ہیں۔پس اس اطمینان کی حالت پر پہنچنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے تو امہ کی حالت پیدا ہو اور گناہ کی شناخت ہو۔گناہ کی شناخت حقیقت میں بہت بڑی بات ہے جو اس کو شناخت نہیں کرتا اس کا علاج نبیوں کے پاس نہیں ہے۔“ (ملفوظات جلد سوم صفحہ ۸۲) کیسا عظیم کلام ہے، کیسا عارفانہ کلام ہے۔کوئی شریف النفس دنیا کا انسان اس تحریر کو پڑھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی دجال کی تحریر ہے ، خدا پر جھوٹ بولنے والے کی تحریر ہے۔قرآن کی گہری معرفت کے نتیجے میں یہ تحریر پیدا ہوئی ہے۔اس کی جڑیں قرآن میں پیوستہ ہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے جو فرمایا صمٌّ بُكْم عَلَى فَهُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ ، سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ وَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ صلى الله تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ( البقرہ:۱۹) یہاں آنحضرت ﷺ کو مخاطب فرما دیا۔فرمایا اے محمد ! جو نبیوں کا سردار ہے جس سے بڑی نبوت کسی کو عطا نہیں ہوئی یہ جو صُمٌّ بُكْمُ عُنی لوگ ہیں تیرے لئے برابر ہے چاہے ان کو نصیحت کر چاہے نہ نصیحت کر یہ ایمان نہیں لائیں گے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا کہ نبیوں کے پاس ان کا علاج نہیں اس کی بنیا د قرآن کریم میں ہے۔قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ نبیوں کے سردار کے پاس بھی ان کا علاج نہیں۔جب تک اس حالت سے نکل کر تو امہ کی حالت میں نہیں آتے اس وقت تک کوئی علاج ممکن نہیں ہے اور تو امہ کی حالت میں آنے سے پہلے اپنے نفس کی بیداری ضروری ہے۔اپنے گناہوں کا شعور ضروری ہے۔فرمایا جو اس کو شناخت نہیں کرتا اس کا علاج نبیوں کے پاس نہیں ہے۔نیکی کا پہلا دروازہ اسی سے کھلتا ہے کہ اول اپنی کو رانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بُری مجلس اور بُری صحبت کو چھوڑ کر نیک مجلس کی قدر کرے۔اپنی بد حالت کو پا تو لے کہ ہے کیا، اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنا شروع کرے اور جب یہ شروع کرے گا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ بڑی لمبی منازل ہیں اس سفر میں۔ایک تہہ کے نیچے