خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 665
خطبات طاہر جلد ۸ کے بعد فرماتے ہیں: 665 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء کچھ معلوم اور محسوس نہیں ہوتا کہ کدھر جا رہا ہے۔امارہ جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے 66 اپنے نفس کے غلام بنے ہوئے ،اس کے ہاتھ میں نوکیلیں دیئے ہوئے، جدھر وہ چاہتا ہے ان کو ہانکی پھرتا ہے اور کچھ پتا ہی نہیں لگتا ان کو۔” اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے تو معرفت کی ابتدائی حالت میں تو امہ کی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور گناہ اور نیکی میں فرق کرنے لگتا ہے۔گناہ سے نفرت کرتا ہے مگر پوری قدرت اور طاقت عمل کی نہیں پاتا۔“ ی وہ حالت ہے جس پر مومنین اپنی ابتدائی حالت میں پائے جاتے ہیں اور جماعت احمدیہ کی اکثریت کی میں یہی حالت دیکھ رہا ہوں۔یہ نہیں کہ وہ گناہوں سے پاک ہو چکے ہیں سب سے پہلی نعمت جو احمدیت عطا کرتی ہے وہ اپنے نفس کا شعور ہے۔کثرت کے ساتھ لکھوکھا کی تعداد میں ایسے احمدی موجود ہیں جو باوجود اس کے کہ بعض پہلوؤں سے گناہوں میں ملوث ہیں لیکن گناہ کا شعور پیدا ہو چکا ہے اور اپنے نفس کی معرفت کا شعور پیدا ہو چکا ہے۔بے چین رہتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح ان گناہوں سے چھٹکارا حاصل کریں۔دعائیں کرتے ہیں اور دعاؤں کے لئے خط لکھتے ہیں۔یہ تو امہ کی کیفیت ہے جو خوش نصیبوں کو ملا کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ایک دوسری جگہ کہ تم نے احمدیت میں داخل ہو کر جو پایا ہے وہ یہ نہیں پایا کہ تم ہر طرح سے روحانیت سے سیراب ہو چکے ہو بلکہ احمدیت تمہیں اس شفاف چشمے کے کنارے پر لے آئی ہے جہاں اگر تم آگے قدم بڑھاؤ اور ہاتھ آگے بڑھا کر چلو بھر بھر کر پانی پینا چاہو تو تمہیں اس بات کی توفیق مل چکی ہے لیکن یہ تمہیں خود کرنا ہو گا۔اس لئے یہنفس لو ام پیدا کرنا یہ ایمان کا پہلا کام ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے جماعت کی بھاری اکثریت کو نفس لوامہ عطا ہو چکا ہے لیکن تو امہ ایک ایسا نفس نہیں جس پر آپ ٹھہرے رہیں اور اس پر ٹھہرنے کے نتیجے میں آپ کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔یہ ایک سفر کی عارضی منزل ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: