خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 667 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 667

خطبات طاہر جلد ۸ 667 خطبه جمعه ۶ اکتوبر ۱۹۸۹ء دوسرے گناہ کی تہ نظر آئے گی دوسرے گناہ کے نیچے تیسرے گناہ کی تہہ نظر آئے گی۔ظلمات کے پر دے دکھائی دیں گے جو انسان کے نفس پر پڑے ہوئے تھے۔پس جس کو خدا ہی کہتا ہے اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ایک ہی پردہ ہے آنکھ پر جس کو آپ اُتار کر پھینک دیں تو نظر روشن ہو جائے گی۔عملاً بہت سے پردے ہوتے ہیں اور ہر عارف باللہ اس مضمون میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے تو اس کی نظر تیز ہوتی چلی جاتی ہے۔اس کے ایک پردے کے پیچھے جب اس کو دوسرا اندھیرے کا پردہ دکھائی دیتا ہے تو پھر اس کو دور کرتا ہے۔پھر وہ تیسرے پر دے کو دور کرتا ہے یہاں تک کہ بالآ خر تمام پر دے جب صاف ہو جائیں تو وہ نفس مطمئنہ پانے والا وجود بن جاتا ہے۔کامل روشنی کا وجود پھر اس کی آنکھ کے سامنے کوئی میل باقی نہیں رہتی۔فرمایا: پھر اول اپنی کورانہ زندگی کو سمجھے اور پھر بُری صحبت کو چھوڑ کر نیک مجلس کی قدر کرے“ یہ ایک بہت ہی ضروری بات ہے احمدیوں کے لئے جب ان کے دل میں پاک تبدیلی پیدا ہو تو وہ لوگ جن کے دل میں پاک تبدیلی پیدا نہیں ہوتی طبعی طور پر ان کو چھوڑتے ہیں۔ان کی مجلسوں میں ان کو لطف نہیں رہتا۔جب اپنی حالت گندی ہوتی ہے اور جہالت کی ہوتی ہے تو ایسی بد مجلسوں سے وہ لطف اٹھاتے ہیں جہاں تنقید میں ہو رہی ہیں جہاں تمسخر ہورہے ہیں، جہاں ٹھٹھے ہورہے ہیں۔پاک لوگوں پر گندی زبانیں کھولی جارہی ہیں وہ بیٹھے رہتے ہیں مزے سے سنتے رہتے ہیں۔جب اپنے نفس کا حال ان پر روشن ہونے لگتا ہے، اپنی گندگیوں سے آگاہ ہونے لگتے ہیں تو گناہ سے وہ نفرت پیدا ہوتی ہے جو ان کے اندر نیا شعور پیدا کر دیتی ہے پھر یہ مجلسیں ان کو اچھی نہیں لگتیں ، تکلیف دینے لگ جاتی ہیں کیونکہ اپنے اندر بھی وہ ایسی ہی کمزوریاں پار ہے ہوتے ہیں جیسے کمزوریوں پر دوسرے ٹھٹھہ اُڑاتے ہیں۔اس کا یہی کام ہونا چاہئے کہ جہاں بتایا جائے کہ اس کے مرض کا علاج ہوگا وہ اس طبیب کے پاس رہے اور جو کچھ وہ اس کو بتا وے وہ اس پر عمل کرنے کے لئے ہمہ تیار ہو۔دیکھو بیمار جب کسی طبیب کے پاس جاتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ وہ طبیب کے ساتھ ایک مباحثہ شروع کر دے بلکہ اس کا فرض یہی