خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 575 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 575

خطبات طاہر جلد ۸ 575 خطبه جمعه ۲۵/اگست ۱۹۸۹ء ایک سلسلے کے عالم کی تقریر کا مقابلہ تو وہ نہیں کر سکتے اور پھر علماء علماء میں بھی فرق ہے۔اس لئے ان باتوں کو سوچتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ پورا جلسہ ریکارڈ کراؤں۔چنانچہ اس زمانے میں نیا نیا کیسٹ ریکارڈر ایجاد ہوا تھا اس میں میں نے ایک جلسہ بنایا۔ایک بہت اچھی تلاوت میں کسی سے نظم پڑھائی پھر ایک مضمون پر خاص موضوع چن کے اس میں تقریر بھروائی اور خیال تھا کہ جب یہ مقبول ہوا اور اس کے اچھے اثرات ہوئے تو پھر مختلف موضوعات پر جلسے بنادئے جائیں گے۔A جلسہ ، B جلسہ ، C جلسہ کبھی ایک جلسہ ہو جائے اور پھر اگلی دفعہ دوسرا جلسہ اس گاؤں میں ہو جائے اور اگر ترتیب کے ساتھ ہم سارے دیہات کو تقسیم کر لیں نمبروں کے لحاظ سے تو ہر نیا نمائندہ اپنے ساتھ ایک گاؤں میں ایک نیا پروگرام لے کر پہنچ سکتا ہے اور بہت سے ایسے مضامین جوان دیہاتوں تک نہیں پہنچتے اور جلسے میں بھی سب کو کہاں توفیق ملتی ہے بہت معمولی حصہ ہے جو جلسوں تک پہنچ سکتا ہے۔دور دور کی جماعتوں کے لوگ تو بہت بھاری تعداد میں محروم رہ جاتے ہیں پھر جلسے پر آنے والے بھی ہر وقت جلسہ نہیں سنتے۔مصروفیات ہیں کئی قسم کی ، پھر وہ جب سن رہے ہوتے ہیں تو تو جہات ادھر ادھر ہو جاتی ہیں۔پھر جلسے کی تقریروں کے انتخاب میں مقاصد اور ہوتے ہیں بعض دفعہ اور ٹھوس بنیادی تربیت مسلسل جلسے کی تقریر کا مقصد نہیں ہوتی۔تو اس پہلو سے اگر اچھے مضامین کا انتخاب کیا جائے اچھی نظمیں پڑھنے والے کی نظمیں اس میں ریکارڈ کی جائیں اور ایک جلسہ بنالیا اس کو پہلے پھیلا دیا پھر اس سلسلے میں ایک اور جلسہ بنالیا اور یہ جلسے ہر علاقے کی ضرورتوں کے مطابق مختلف ہوں گے ایک پروگرام ہر جگہ نافذ نہیں ہوسکتا لیکن ایک طرز ضرور نافذ ہو سکتی ہے۔تو امید ہے کہ اس پہلو سے بھی جماعتیں متوجہ ہوں گی اور گاؤں گاؤں میں بستی بستی میں ایسے تربیتی اجلاس شروع ہو جائیں گے۔جہاں تک تبلیغی اجلاسوں کا تعلق ہے پاکستان جیسے ملک میں یا بعض اور ممالک میں ان پر تو پابندی ہو بھی سکتی ہے کسی حد تک اور دخل اندازی کی جاتی ہے تو تربیت کے پہلو سے بھی کریں گے وہ لیکن الا ماشاء الله اکثر دیہات میں اس کی سہولت ہوگی اور میں نہیں سمجھتا کہ اس پروگرام کو نافذ کرنے میں پاکستان جیسے ملک میں بھی کسی قسم کی دقت ہو اور اگر ہو تو جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے قربانی کے میدانوں میں بڑی ثابت قدمی سے آگے بڑھ رہی ہے اور ہر قسم کے دباؤ کو بڑی مومنانہ