خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 574
خطبات طاہر جلد ۸ 574 خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۸۹ء ساتھ بیان کئے جائیں۔یہ پروگرام جب آگے بڑھے اور یہ حصہ آپ طے کر چکیں پھر اس طرف متوجہ ہوں یا بعض صورتوں میں بیک وقت بھی ایک اور پروگرام ساتھ چلایا جا سکتا ہے جلسے میں اور ٹیسٹس میں بھر کر دیہات میں پہنچائے جائیں۔یہ تجربہ میں نے وقف جدید میں کیا تھا اور اگر چہ تھوڑے پیمانے پر ہوا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں ہوا اس سے بہت ہی شاندار اور حوصلہ افزا نتائج نکلے۔جلسے سے مراد میری یہ ہے کہ ہم عموماً جب معلمین کو ، انسپکٹر ان کو یا دیگر جماعتی نمائندوں کو دوروں پر بھجواتے ہیں تو یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ معیاری جلسہ وہاں منعقد کر اسکیں گے اور جماعت پوری طرح اس سے استفادہ کر سکے گی۔حالانکہ بہت سے ایسے آپ کے سلسلے کے کارکن ہیں یا خدام اور انصار کے نمائندہ ہیں جن کی اپنی تلاوت اچھی نہیں ہے یا تلاوت صحیح کر سکتے ہیں تو آواز بھونڈی ہے۔بے اختیاری ہے بیچاروں کی اس میں اختیار ہی کسی کا کوئی نہیں۔جو آپ نے سنے ہوں گے قصے کہ وہ آواز اچھی کرنے والی گولیاں ملتی ہیں بازاروں میں یہ سب جھوٹ اور قصے ہیں محض۔آواز اللہ کی طرف انعام ہے، اس کی طرف سے ایک تحفہ۔جس بیچارے کو نصیب نہ ہو مجبور ہے۔بعض تو میں نے دیکھا تلاوت ایسی خوفناک کرتے ہیں کہ لوگ بھاگتے ہیں اس سے۔وہ آپ نے سنا ہو گا قصہ ایک جگہ کہتے ہیں ایک بہت ہی خوش الحان اذان دینے والا اذان دیا کرتا تھا ہندو آبادی تھی اور اس کا ایسا اثر تھا اس کی آواز کا ایسا جادو تھا کہ جن ہندو گھروں تک وہ آواز پہنچتی تھی وہ اسلام کی طرف مائل ہونے لگ گئے۔ایک ہندوسا ہو کار کی بیٹی یہ روزانہ سنتی تھی اور اس کی دن بدن حالت بدلتی چلی گئی اور اسلام کی محبت اس کے دل میں بھر گئی۔تب اس کے باپ کو خیال آیا کہ اس کا کچھ کرنا چاہئے یہ نصیحتوں سے تو مانے گی نہیں۔اس نے اس مؤذن کو بہت سے پیسے دئے کہ میاں تم یہ گاؤں چھوڑ جاؤ اور ایک نہایت ہی بد آواز والے شخص کو پیسے دئے کہ تم یہاں مؤذن بن جاؤ اور چند دن میں ہی دیکھتے دیکھتے اس کا سارا اثر زائل ہو گیا۔یہ لطیفہ کے طور پر سنا ہوا ہے قصے کے طور پر لیکن محض قصہ نہیں ہے ان باتوں میں بڑی گہرائی ہے۔اس لئے ایسے مربیان یا ایسے معلمین یا الگ دوسرے نمائندگان جو مختلف جماعتوں میں جاتے ہیں ہر گز ضروری نہیں ہے کہ ان کی تلاوت اچھی ہو، ان کی آواز اچھی ہو اور وہ اثر پیدا کر سکیں پھر ان کی تقریر کے انداز بھی الگ الگ ہوں گے اور