خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 49
خطبات طاہر جلد ۸ 49 خطبہ جمعہ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء وو اور کونسی راہیں چھوڑنے کی راہیں۔پھر دیکھو کہ خدا کا فضل تم کو بھی نہیں چھوڑے گا۔آخر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔یہ وہ امام ہے جس سے آپ نے تعلق باندھا ہے۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس تعلق کا مستحق بھی بنائے۔آپ فرماتے ہیں: ” صادق تو ابتلاؤں کے وقت بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہوگا اور یہ عاجز اگر چہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خدا تعالیٰ کا شکر کرتا ہے لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگر چہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں۔میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ساتھ ہے۔اگر میں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں تب بھی میں آخر فتح یاب ہوں گا۔مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے۔میں ہر گز ضائع نہیں ہوسکتا۔مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا۔کس سچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا۔یقیناً یا د رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ بیچ ہیں۔میں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا۔میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں۔کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا کبھی نہیں چھوڑے گا۔کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا کبھی ضائع نہیں کرے گا۔دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور کیا خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا۔میں اُس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے۔کوئی چیز ہمارا پیوند تو ڑ نہیں سکتی اور مجھے اُس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اُس کے دین کی عظمت ظاہر ہو اُس کا جلال چمکے اور اُس کا بول بالا ہو۔کسی ابتلا سے اُس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگر چہ ایک ابتلاء نہیں کروڑ ا بتلا ہو، ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل