خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 48 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 48

خطبات طاہر جلد ۸ 48 خطبہ جمعہ۲۰/جنوری ۱۹۸۹ء دی ہے۔چھری چل تو سکتی ہے مگر اس گردن کو تن سے جدا نہیں کر سکتی۔چلے گی ہزاروں مرتبہ یہ چھریاں چلائی گئی ہیں اور آزمائش پہ آزمائش ہم پر گزر چکی ہے مگر تیز سے تیز چھری نے بھی جماعت کے سر کو جماعت کے تن سے جدا نہیں کیا۔نہ پہلے کر سکے تھے نہ آج کر سکتے ہو نہ کل کر سکو گے۔مگر جن چھریوں کو تم نے اجازت دی اور اگر تم نے اجازت دی تو وہ جب تمہارے اوپر چلائی جائیں گی تو گہرے وار کریں گی اور گہرے زخم چھوڑیں گی اور ہو سکتا ہے تمہارے وجود کی بقا کو ہی خطرے میں ڈال دے۔ہم یہ نہیں چاہتے ، ہم جانتے ہیں تم میں بہت اچھے لوگ ہیں، نیک لوگ ہیں ایسے لوگ ہیں اگر وہ با اصول رہیں تو سیاست ہی میں نہیں انسانی شرافت کی تاریخ میں بھی ہمیشہ کی زندگی پا جائیں گے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ تم وہ نہیں ہو جو بار بار موقع دیئے جاتے ہو اور ایسے زیادہ آدمی ہمارے پاس نہیں ہیں اس لئے اس تاریخی موقع کو ضائع نہ کرو اور اپنے اور قوم کے فائدے کی بجائے اپنی قوم کے نقصان میں تبدیل نہ کرو۔جہاں تک ہماری ذات کا تعلق ہے ہم یقین اور کامل یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا جس نے پہلے ہمیں کبھی نہیں چھوڑا، آج بھی ہمیں نہیں چھوڑے گا۔ہمارا تو کل تم پر نہیں ہے، ہمارا تو کل کائنات کے مالک اور خالق خدا پر ہے اور وہی جس نے ہمیشہ ہمارے تو کل کی عزت اور بھرم رکھا ہے اور کبھی بھی ہماری توقعات کو ٹھوکر نہیں لگائی۔اس لئے میں پاکستان کے اُن احمدیوں کو بھی مخاطب اور متنبہ کرتا ہوں جو چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے نتیجوں میں لمبی چھلانگیں لگانے لگتے ہیں۔پہلے بھی میں نے آپ کو متنبہ کیا تھا اُس وقت یہ حالات ابھی ظاہر نہیں ہوئے تھے۔اب میں آپ کو دوبارہ متنبہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے اپنی توقعات کو اور اپنی امیدوں کو دنیاوی تبدیلیوں سے وابستہ کر لیا تو پھر آپ کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔اگر اندھیروں میں بھی آپ نے خدا کے نور سے دیکھنے کی عادت ڈالی، اگر ہر قسم کے خطرات میں بھی آپ نے اپنے یقین کو آنچ نہ آنے دی کہ وہ خدا جو کل ہمارے ساتھ تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا اور کبھی ہمارا ساتھ نہیں چھوڑے گا تو پھر دنیا کی کوئی مصیبت آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکے گی۔حالات ضرور تبدیل ہوں گے کیونکہ خدا کا وعدہ ہے یہ حالات تبدیل کئے جائیں گے لیکن آپ کو تبدیل نہیں ہونا۔اگر آپ تبدیل ہو گئے اور خدا کے تعلق کو توڑ دیا تو پھر حالات آپ کے لئے کبھی تبدیل نہیں کئے جائیں گے اس لئے موحد بنو اور خدا پر اپنا تو کل رکھو۔با اصول رہو اور قوم کو اصولوں پر قائم رہنے کی تلقین کرو۔اُن کو سمجھاؤ، اُن کو اپنی عقلوں کا نور عطا کرو، اُن کو دکھاؤ کہ کونسی راہیں چلنے کی راہیں ہیں