خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 50 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 50

خطبات طاہر جلد ۸ میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔50 50 من نه آنستم که بروز جنگ بینی پشت من آن منم کاندر میان خاک و خون بینی سرے خطبه جمعه ۲۰ جنوری ۱۹۸۹ء میں ہرگز وہ نہیں ہوں کہ جنگ کے روز تم میری پیٹھ دیکھ سکو۔ہاں میں وہ ضرور ہوں کہ جب طاقت سے معاملہ بڑھ جائے گا تو خاک و خون میں لتھڑا ہوا میرا سر تو دیکھو گے مگر بھاگتے ہوئے کی ا میری پیٹھ کبھی نہیں دیکھ سکو گے۔پس اگر کوئی میرے قدم پر چلنا نہیں چاہتا تو مجھ سے الگ ہو جائے۔مجھے کیا معلوم ہے کہ ابھی کون کون سے ہولناک جنگل اور پُر خار باد یہ در پیش ہیں جن کو میں نے طے کرنا ہے۔پس جن لوگوں کے نازک پیر ہیں وہ کیوں میرے ساتھ مصیبت اُٹھاتے ہیں۔جو میرے ہیں وہ مجھ سے جدا نہیں ہو سکتے نہ مصیبت سے نہ لوگوں کے سب وشتم سے نہ آسمانی ابتلاؤں اور آزمائشوں سے اور جو میرے نہیں وہ عبث دوستی کا دم مارتے ہیں کیونکہ وہ عنقریب الگ کئے جائیں گے اور اُن کا پچھلا حال اُن کے پہلے سے بدتر ہوگا۔کیا ہم زلزلوں سے ڈر سکتے ہیں۔کیا ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں ابتلاؤں سے خوفناک ہو جائیں گے۔کیا ہم اپنے پیارے خدا کی کسی آزمائش سے جدا ہو سکتے ہیں۔ہرگز نہیں ہو سکتے۔مگر محض اُس کے فضل اور رحمت سے پس جو جدا ہونے والے ہیں جدا ہو جائیں اُن کو وداع کا سلام۔لیکن یاد رکھیں کہ بدظنی اور قطع تعلق کے بعد اگر پھر کسی وقت جھکیں تو اس جھکنے کی عند اللہ ایسی عزت نہیں ہوگی جو وفا دار لوگ عزت پاتے ہیں کیونکہ بدظنی اور غداری کا داغ بہت ہی بڑا داغ ہے۔“ (انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۲۳ ۲۴) پس اللہ تعالیٰ ہمیں بدظنی اور غداری کے داغ سے ہمیشہ بچائے اور اس امام کے ساتھ پیوستہ رکھے۔ہمارا ہر تعلق اس امام کے ساتھ قائم رکھے اور اس امام کے عزم اور حوصلے کے شایان شان بنائے۔آمین۔